The news is by your side.

Advertisement

جاپان میں ملک بدر کیے گئے غیر ملکیوں کیلئے نئی امیگریشن پالیسی کا اعلان

ٹوکیو : جاپانی حکومت نے امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے غیر ملکیوں کو اپنے اہل خانہ یا کفیل کے ساتھ رہنے اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جاپانی حکومت کی جانب سے غیر ملکیوں کےلیے نئی پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت امیگریشن اتھارٹی ملک بدری کے حکم کو مسترد کرنے والے بعض غیر ملکیوں کو مخصوص شرائط کی بنیاد پر اہل خانہ یا کفیل کے ساتھ رہنے کی اجازت دی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی حکومت کی جانب سے ملک بدر کیے جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جنہیں امیگریشن ایجنسیوں کی جانب سے حکومتی مراکز میں زیر حراست رکھا جاتا ہے۔

لیکن اب حکومت نے امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض افراد کو جنکے فرار ہونے کا امکان نہ ہو ملک چھوڑنے تک اہل خانہ یا کفیل کے ساتھ رہنے کی اجازت دی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امیگریشن ایجنسی دوسری درخواست مسترد ہونے کے بعد، خواہ تیسری درخواست جمع کرائی جا چکی ہو، ملک بدری مؤخر کرنے کے عمل کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

ایجنسی انتشار انگیز رویے کا مظاہرہ کرنے والے زیر حراست افراد کی ملک بدری کے لیے ایک نیا طریقۂ کار اختیار کرے گی۔ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید کی سزا دی جا سکے گی۔

امیگریشن ایجنسی ترامیم پر مشتمل مسودۂ قانون آئندہ سال پارلیمان کے عام اجلاس میں پیش کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں