The news is by your side.

Advertisement

جاپان: کروڑوں فیس ماسک ذخیرہ کیے جانے پر نقصان کا باعث بننے لگے

ٹوکیو: جاپان میں کروڑوں فیس ماسک سرکاری سطح پر ذخیرہ کیے جانے پر نقصان کا باعث بننے لگے۔

تفصیلات کے مطابق جاپان کے پاس 8 کروڑ سے زائد فیس ماسک کا ذخیرہ پڑا ہوا ہے، جاپان کے آڈٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ کرونا وبا کے آغاز میں حکومت نے بڑی مقدار میں فیس ماسک خریدے تھے، ان میں سے 8 کروڑ سے زائد ماسک اب بھی ذخیرہ گاہوں میں پڑے ہوئے ہیں، جن کا نقصان ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

حکومت نے گزشتہ سال کے اوائل میں 260 ملین دھونے کے قابل کپڑے کے ماسک محفوظ کیے تھے، تاکہ جاپان کے ہر گھر میں تقسیم کیے جا سکیں، کیوں کہ وائرس پھیلنے کے بعد گھبرائے ہوئے لوگوں نے میڈیکل اسٹورز خالی کر دیے تھے۔

جاپانی حکومت نے 120 ملین فیس ماسک گھرانوں کو جب کہ 140 ملین نرسنگ اور بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز کے لیے فراہمی کا منصوبہ ترتیب دیا تھا، اس فیس ماسک کو اُس وقت کے وزیر اعظم شنزو ایبے کے نام پر ‘ابینوماسک’ کا نام دیا گیا تھا۔

آڈیٹر کے مطابق انھوں نے معلوم کیا کہ مارچ کے اواخر تک 8 کروڑ 27 لاکھ ماسک اسٹوریج میں ہی رکھے ہوئے تھے، ان کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 10 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ہے۔

فیس ماسک کو گزشتہ سال اگست سے رواں سال مارچ تک نجی ذخیرہ گاہوں میں رکھنے کے لیے حکومت کو 52 لاکھ ڈالر کے اخراجات اٹھانے پڑے ہیں۔ وزارت صحت کا کہنا تھا کہ قلت ختم ہونے کے بعد بچ جانے والے ماسک ذخیرہ کرنا پڑے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں