منگل, جون 18, 2024
اشتہار

جاپان میں خوفناک جانور نے تباہی مچا دی

اشتہار

حیرت انگیز

ٹوکیو : جاپانی حکومت ان دنوں ایک شدید جارحانہ قسم کے جانور کی بڑھتی ہوئی آبادی سے نبرد آزما ہے جس نے ملکی معیشت اور ماحول کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جاپان میں ’ریکون‘ کی بڑھتی ہوئی تعداد نے خطرناک صورت اختیار کرلی ہے جس کی وجہ سے ماحولیات اور معیشت کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

ٹوکیو حکومت کا کہنا ہے کہ اس جانور کی تعداد پر قابو پانے کیلیے خصوصی اقدامات کیے گئے جس کے تحت سال2022 کے مالی سال کے دوران تقریباً ایک ہزار تین سو ریکون کو پکڑا گیا۔

- Advertisement -

Raccoon

خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ 10 سال پہلے ہونے والی کارروائی میں پکڑی گئی تعداد سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2022 میں ریکون پر فصلوں کو تقریباً 3 ملین ڈالر کا نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا تھا تاہم ریکونز کا مقابلہ ان کی ذہین فطرت کی وجہ سے انتہائی مشکل ثابت ہوا۔

جاپانی حکومت نے ریکون کو درانداز جانور کے طور پر قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے سخت اقدامات کرنے کا اعادہ کیا ہے۔

یہ جانور کب اور کیسے جاپان آیا ؟

سال 1977 میں جاپانی ٹیلیوژن پر بچوں کا تفریحی پروگرام کارٹون پیش کیا جاتا تھا جس کا نام ریسل دا ریکن‘ تھا، اس پروگرام کی بے پناہ مقبولیت کے بعد ریکنز کو درآمد کیا جانے لگا اور لوگ سے گھروں میں پالنے لگے تاہم یہ جاپان کا مقامی جانور نہیں ہے۔

Tokyo

ریکون آسان پالتو جانور نہیں ہے، یہ گھر میں سکون سے نہیں رہ سکتے ذرا سی مزاحمت پر اپنجے نوکیلے دانتوں سے کاٹ سکتے ہیں۔ ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے علاوہ اس جانور کے حملوں نے ملک کی زراعت کو بھی تباہ کر دیا ہے۔

چونکہ جاپان میں ریکون کے مقابلے کا ایسا کوئی جانور نہیں جو اس کو نقصان پہچاسکے یا اس کا شکار کرسکے اسی لیے اس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جو ملک بھر میں پھیل چکے ہیں۔

جب جاپانی حکومت کو اس خطرے کا احساس ہوا تو حکومت نے اس کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی، ریکون کی آبادی میں اضافہ پریشان کُن صورت اختیار کرچکا تھا۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں