The news is by your side.

Advertisement

عورت کی روح نے مشہور چٹان کو دو ٹکڑے کر دیا، جاپان میں خوف و ہراس

جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے ترقی یافتہ ملک جاپان میں ایک مشہور آتش فشانی چٹان، جو قاتل پتھر کے نام سے مشہور ہے، اچانک دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے، جس نے جاپانیوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے، اور مقامی اور قومی حکومتیں بھی ہنگامی اجلاس بلانے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جاپان میں ایک مشہور آتش فشانی چٹان (Sessho-seki قاتل پتھر)، جس کے ساتھ مختلف توہمات اور کہانیاں جڑی ہوئی ہیں، 5 مارچ کو جاپان میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے، پتھر ٹوٹنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

یہ پتھر جاپان کے شہر توشیگی میں ایک معروف آتش فشانی پہاڑی علاقے میں موجود ہے، اس کے ٹوٹنے کے واقعے نے لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے، لوگوں میں یہ بات مشہور ہو رہی ہے کہ اس پتھر میں ایک ‘بد روح’ مقیم تھی جس کے سبب یہ ٹوٹ گیا۔

جاپانی اساطیر کے مطابق، اس پتھر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو بھی اس سے رابطے میں آتا ہے اسے مار ڈالتا ہے، کیوں کہ اس میں تمامو نو مائے نامی خاتون کی روح قید ہے، ایک خاتون جو شہنشاہ ٹوبا کے قتل کی سازش میں شریک تھی، ٹوبا نے 1107 سے 1123 کے درمیان جاپان پر حکمرانی کی تھی۔

یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ تمامو نو مائے خاتون اصل میں نو دُموں والی لومڑی تھی، جسے ایک جنگجو نے مار دیا تھا، جس کے بعد اس کی لاش اس پتھر میں تبدیل ہو گئی تھی۔ جاپانی میڈیا میں یہ بات دہرائی جا رہی ہے کہ پتھر کے ٹوٹنے کا واقعہ شاید دانستہ طور پر واقع ہوا تا کہ اس میں مقیم بد روح کو نکال لیا جائے، اور یہ فعل بدھ مت کے ایک روحانی عامل نے انجام دیا ہے۔

ادھر ایک جاپانی اخبار نے لکھا ہے کہ اس پتھر سے زہریلی گیس نکلنا شروع ہو گئی ہے اور جو کوئی بھی اس کو چُھوئے گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔ اس "قاتل پتھر” کے جائے وقوع کے علاقے میں حقیقی خوف اور دہشت پائی جا رہی ہے، اور ٹویٹر پر اس پتھر کی تصویر کو 1.7 لاکھ لائک مل چکے ہیں۔

اخبار کے مطابق حکومتی ذمے داران دیگر اہم شخصیات کے ساتھ مل کر جلد ہی اس پتھر کے حوالے سے اقدامات کریں گے، اور توقع ہے کہ حکام اس پتھر کے دونوں حصوں کو دوبارہ سے جوڑ کر پرانی حالت میں لے آئیں، تاکہ بد روح کو اس کے اندر دوبارہ قید کیا جا سکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں