The news is by your side.

Advertisement

طالبہ نے امتحان میں‌ خالی کاغذ تھما دیا، نمبر پھر بھی پورے ملے

ٹوکیو : جاپانی پروفیسر نے طالبہ کو خالی کاغذ دینے پر اس وقت پورے نمبر سے نواز دیا جب انہیں علم ہواکہ لڑکی نے مضمون نظر نہ دینے والی سیاہی سے تحریر کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جاپان کی ایک یونیورسٹی میں طالبہ نے کمال ذہانت کا مظاہر کرنے مضمون نویسی میں اس وقت مکمل نمبر حاصل کرلیے جب پروفیسر کومعلوم ہوا کہ لڑکی نے مضمون تحریرکرنےکےلیے انوکھی سیاہی استعمال کی ہے جو کاغذ کو آگ پر گرم کرنے کے بعد نمودار ہوتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ہونہار طالبہ نے یہ کام ننجا تکنیک ’ابورداشی‘ کے ذریعے انجام دیا جس میں مٹر دانوں کو کئی گھنٹوں تک بھگونے کے بعد پیش کر یہ سیاہی تیار کی تھی۔

برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایمی ہاگا نے بچپن میں ایک اینیمیٹڈ پروگرام نشر ہونے کے بعد ننجا کی تاریخ میں دلچسپی پیدا کی تھی۔

واضح رہے کہ ننجا میڈل ایج کے جاپان میں خفیہ اہلکار اور قاتل ہوا کرتے تھے۔

برطانوی میڈیا کا کہناتھا کہ جاپان کی مائی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے ایک سال بعد طالبہ نے ننجا کی تاریخ پر علم حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو ہاگا کو ننجا عجائب گھر سے متعلق مضمون تحریر کرنے کو کہا گیا ساتھ ساتھ پروفیسر میں کلا س میں اعلان کردیا کہ جو مضمون نویسی میں تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرے گا اسے زیادہ نمبر دئیے جائیں گئے۔

جاپانی طالبہ نے بتایا کہ پروفیسر یوجی یمادا کے اعلان پر میں نے فیصلہ کیا کہ میں ابورداشی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے مضمون لکھوں گی جو میرے مضمون کو سب سے منفرد بنائے گا۔

غیر ملکی میڈیا ک مطابق ہاگا نے مٹر کے دانوں کو رات بھر بھگوکر رکھا پھر انہیں پیس کر ایک کپڑے میں ڈال کر نچوڑا اور پھر پسے ہوئے مٹر کے دانوں کو پانی میں ملاکر اور اس کے بعد ’وشی‘ نامی کاغذ پر قلم جیسے برش سے اپنا مضمون تحریر کیا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ جب ہاگا کی تحریر خشک ہوئی تو نظر آنا بند ہوگئی۔

جاپانی نونیورسٹی کے پروفیسر نے بتایا کہ جب طالبہ نے مجھے اپنا مضمون دیا کاغذ مکمل طور پر کورا تھا بس ایک سطر ہلکی سیاہی سے تحریر تھی کہ کاغذ کو گرم کریں۔

پروفیسر یوجی یمادا کا کہنا تھا کہ ہاگانے یہ لائن اس لیے کاغذ پر تحریر کردی تھی تاکہ اس کا مضمون کورا کاغذ نظر آنے کی وجہ سے کوڑے دان میں نہ پھینک دیا جائے۔

پروفیسر نے برطانوی میڈیا کو بتایا کہ میں نے خفیہ کوڈ میں بہت سی رپورٹس دیکھی ہیں لیکن جب یہ مضمون دیکھا تو میں حیران رہ گیا ابورداشی سے ایسا بھی ہوسکتا ہے۔

پروفیسر کا کہنا تھاکہ میں پورا کاغذ گرم بھی نہیں کیا تھا لیکن ایسی تکنیک دیکھنے کے بعد مجھے پورے نمبر دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں