The news is by your side.

جاپان میں نوجوانوں کو شراب کی طرف راغب کرنے کی مہم، حکومت کو تنقید کا سامنا

ٹوکیو: جاپان میں حکومت نے معیشت کو فروغ دینے کیلئے نوجوان نسل کو زیادہ سے زیادہ شراب نوشی کی طرف مائل کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق جاپان میں نئی نسل اپنے والدین کے مقابلے میں کم شراب نوشی میں کم دلچسپی لے رہے ہیں، جس کے باعث جاپانی ٹیکس حکام کو شراب کی فروخت سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن میں کمی واقع ہورہی ہے۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جاپان کی قومی ٹیکس ایجنسی نے قومی مقابلہ (Sake Viva) کا اعلان کیا ہے، جس میں شہریوں سے نوجوانوں میں کم ہوتے شراب نوشی کے رجحان کو تبدیل کرنے کیلئے نت نئے طریقے بتانے کا کہا گیا ہے۔

مقابلہ میں 20 سے 39 سال کی عمر کے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے کاروباری خیالات شیئر کریں جس سے شراب کی مانگ میں اضافہ ہوسکے۔ ٹیکس ایجنسی کا کہنا ہے کہ نوجوانوں اگلے ماہ ستمبر تک اپنے آئیڈیاز ڈیپارٹمنٹ کو بھیج سکتے ہیں۔

ٹیکس حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ” Sake Viva !” مہم سے شراب نوشی کو مزید دلکش بنانے اور صنعت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

ٹیکس ایجنسی کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بالغ شخص 1995 میں سالانہ اوسطاً 100 لیٹر (22 گیلن) شراب پیتا تھا جو کہ 2020 میں 75 لیٹر (16 گیلن) پر آگئی ہے۔

جاپانی حکومت کو الکوحل پر عائد ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی گزشتہ برسوں کے دوران کمی ہوئی ہے۔ جاپان ٹائمز اخبار کے مطابق 1980 میں الکوحل انڈسٹری سے ٹیکس کی مد میں وصول ہونے والی آمدنی کل ٹیکس آمدنی کا 5 فیصد تھا جو کہ 2020 میں صرف 1.7 فیصد رہ گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے شروع کی گئی مہم پر اسے تنقید کا بھی سامنا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت غیر صحت بخش عادت کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں