The news is by your side.

Advertisement

جاپان میں ملازم خواتین نے اونچی ایڑھی کے خلاف بغاوت کردی

اونچی ایڑھی والا جوتا پہننے کا حکم صنفی امتیاز اور جنسی ہراسگی ہے، درخواست میں مؤقف

ٹوکیو : جاپان میں دفاتر میں کام کرنے والی خواتین نے اونچی ایڑھی والے جوتے لازمی پہننے کے حکم نامے کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا ہے اور وہ خم ٹھونک کر میدان میں آ گئیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق خواتین ملازمین کے ایک گروپ نے حکومت سے درخواست کی ہے جس میں انہوں نے کمپنیوں کے اونچی ایڑھی والا جوتا پہننے والے حکم کو صنفی امتیاز اور جنسی ہراسگی کے مترادف ٹھہرایا ہے۔

درخواست اداکارہ اور مصنفہ یومی اشیکاوا نے داخل کروائی جس میں انہوں نے ایسے قوانین متعارف کروانے کا مطالبہ کیا جن کے تحت کمپنیوں کو منع کیا جائے کہ وہ خواتین ملازمین کو ایڑھی والے جوتے پہننے کا پابند نہ کریں۔

کمپنیوں کے اس امتیازی سلوک کے خلاف یومی اشیکاوا نے ٹویٹر پر کوٹو نامی تحریک بھی شروع کی تھی جس کو خواتین میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔

اس تحریک کو اب تک کم از کم 19 ہزار ٹویٹر صارفین کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ کوٹو جاپانی کے دو الفاظ کٹسو اور کٹسوو کی مختصر شکل ہے۔ کٹسو کے معنی جوتے اور کٹسوو کے تکلیف کے ہیں۔

اس مہم میں حصہ لینے والی خواتین کا کہنا تھا کہ زیادہ تر کمپنیوں کی جانب سے اونچی ایڑھی پہننے کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور خواتین کو مجبوراً اس کو اپنانا پڑتا ہے۔

خیال رہے کہ 2015 میں کینز فلم فیسٹیول کے موقع پر ایک خاتون کو اونچی ایڑھی والی جوتی نہ پہننے پر ریڈ کارپٹ پر نہیں چلنے دیا گیا تھا جس کے بعد کینز فلم فیسٹیول کے ڈائریکٹر کو معذرت کرنا پڑی تھی۔

سال 2017 میں کینیڈا کی برٹش کولمبیا اسٹیٹ نے کمپنیوں کو منع کیا تھا کہ وہ خواتین ملازمین کو اونچی ایڑھی کے سینڈل پہننے پر مجبور مت کریں، کولمبیا اسٹیٹ نے اس عمل کو خطرناک اور امتیازی قرار دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں