The news is by your side.

Advertisement

جڑانوالہ زیادتی اسکینڈل، مرکزی ملزم اعجاز گرفتار

جڑانوالہ : جڑانوالہ زیادتی اسکینڈل میں مفرور ملزم اعجاز عرف بلاڈان کو گرفتار کرلیا گیا، مرکزی ملزم کاتعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔

تفصیلات کے مطابق جڑانوالہ میں لڑکوں کے ساتھ زیادتی کرکے ویڈیوزاور تصویریں بنا کر بیلک میل کرنے والے مفرور ملزم اعجاز عرف بلاڈان کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس کے مطابق ملزم اعجاز ڈان کو شہر وآنہ پل کے قریب سے گرفتار کیا گیا، ملزم مقدمہ درج ہونے پر عبوری ضمانت کراکر روپوش ہوگیا تھا۔

جڑانوالہ زیادتی اسکینڈل کے مرکزی ملزم اعجاز کا تعلق مسلم لیگ ن سےہے جبکہ اس کےساتھی عاقب، راشد اور کاشف  پہلےہی گرفتار ہیں۔


مزید پڑھیں : لڑکوں سے زیادتی اور ویڈیوز بنا کر بیلک میل کرنے والا مفرور ملزم ن لیگ کا سرگرم کارکن نکلا


خیال رہے کہ جڑانوالہ میں لڑکوں کے ساتھ زیادتی کرکے ویڈیوزاور تصویریں بنا کر بیلک میل کرنے کے پیچھے ن لیگ کا مفرور سرگرم کارکن اعجاز کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تھا، ملزم کی طلال چوہدری،کیپٹن(ر)صفدر کے ساتھ تصاویر نمایاں تھیں جبکہ ملزم اعجاز ورکرز کنونشن میں بھی لیگی وزیر طلال چوہدری کے ساتھ رہا۔

یاد رہے فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں لڑکوں سے زیادتی کا اسکینڈل سامنے آیا تھا، جس کے بعد  کئی لڑکوں سے زیادتی کی تصویریں اور ویڈیوز سامنے آئی تھیں ، ملزمان کمسن لڑکوں سے زیادتی کے بعد ویڈیو بناتے اور پھر بلیک میل کرتے تھے۔

زیادتی کے واقعات کا انکشاف علاقے کے ایک متاثرہ لڑکے نے کیا تھا۔

اس سے قبل گوجرنوالہ میں کم عمر لڑکیوں سے زیادتی اور ویڈیوز بنانے کا انکشاف سامنے آیا تھا م جس کے بعد پولیس نے دو ملزمان راشد اور طارق کو گرفتار کرکے متعدد ویڈیوز برآمد کرلی تھی۔


مزید پڑھیں : گوجرانوالہ میں لڑکیوں سے زیادتی اور ویڈیوز بنانے والا ملزم مسلم لیگ ن کا کارکن نکلا


لڑکیوں سے زیادتی اور ویڈیوز بنانے والا گرفتار ملزم راشد خان مسلم لیگ ن کا کارکن نکلا تھا، ملزم راشد خان کی شہباز شریف کے لیے لگے بینرز پر تصویر نمایاں ہے، بینرز پر راشدخان کو جنرل سیکرٹری حمزہ یوتھ ونگ ظاہر کیا گیا تھا۔

قصور میں بھی لڑکوں سے زیادتی اور بلیک میلنگ کا انکشاف ہوا تھا کم از کم پانچ رکنی گروہ سال دو ہزارتیرہ سے یہ گھناؤنا کام کر رہا تھا، ایک ملزم آصف حکمران سیاسی جماعت کا سرگرم رکن ہے ۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں