جمعرات, جولائی 25, 2024
اشتہار

جب تک یہ اسمبلی رہے گی کوئی اتحادی اِدھر اُدھر نہیں ہوگا، جاوید لطیف

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ جب تک یہ اسمبلی رہے گی کوئی اتحادی اِدھر اُدھر نہیں ہوگا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’اعتراض ہے‘ میں جاوید لطیف نے کہا کہ حکومت گرنے کی فکر اس کو ہوتی ہے جس نے حکومت خود بنائی ہو، ہم تو حکومت بنانا ہی نہیں چاہتے تھے تو حکومت گرنے کا کیا خوف ہے۔

جاوید لطیف نے کہا کہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے تو حکومت بنانے سے انکار کر دیا تھا لیکن شہباز شریف نے حکومت بنانے کا چیلنج قبول کیا اور اقتدار میں آئے، جس جماعت کے پاس سادہ اکثریت نہ ہو اور مدت پوری کرے تو ارینجمنٹ ہے۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ آج (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کو گفتگو کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے، دونوں جماعتیں احتیاط کریں ایسا نہ ہو کل کو میڈیا شرمندہ کر رہا ہو، اتحادی جماعتیں حکومت کا حصہ بھی ہیں اور مزے بھی لے رہی ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ حکومت کی ناکامی پر کہیں ہم ذمہ دار نہیں ہیں، حکومت کا حصہ ہیں تو ناکامی کے بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی ممبران کے شکوے ہوتے ہیں اور پارٹی کے ذمہ دار لوگوں سے بھی شکایات سامنے آتی ہیں، اتحادی جماعتیں کیسے شکایت کے بغیر سفر جاری رکھ سکتی ہیں؟

’پاکستان کو اس وقت اندرونی اور بیرونی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ عالمی ادارے قرض کے بدلے اپنی خواہشات بھی مسلط کرتے ہیں۔ 9 مئی گزرے ایک سال ہوگیا لیکن آج تک ذمہ داروں کو سزا نہیں ہوئی۔ بانی پی ٹی آئی کی سہولت کاری موجود ہے اس لیے سزا ہوتے نہیں دیکھ رہا۔ نواز شریف کو جب حکومت سے نکالا گیا اس کے بعد قمر جاوید باجوہ یا فیض حمید سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ شہباز شریف کی سابق آرمی چیف اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات ہوئی ہے یا نہیں مجھے نہیں معلوم۔‘

جاوید لطیف نے کہا کہ دھڑے بندی سیاسی جماعتوں میں نہیں ہوتی بلکہ سیاسی جماعتوں میں کھل کر بات ہونی چاہیے، دو تہائی اکثریت کے باوجود آزادانہ پالیسیاں نہیں بنانی دی جاتی تو بیساکھیوں پر کیسے ملک کو نکال سکیں گے؟

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں