The news is by your side.

Advertisement

نصابی کتاب کے سرورق پر منشیات کا دھندہ کرنے والے مجرم کی تصویر

سنہ 2008 میں امریکا میں ریلیز کیے جانے والے کرائم ڈرامے بریکنگ بیڈ کا ایک کردار جیسی پنک مین جو دراصل منشیات کا دھندہ کرنے والا مجرم ہوتا ہے، سری لنکا کی ایک نصابی کتاب کے سرورق پر جلوہ افروز ہوچکا ہے۔

سنہ 2008 سے 2013 کے دوران نشر کیا جانے والا کرائم ڈرامہ بریکنگ بیڈ دنیا بھر میں بے حد مشہور ہے اور امریکی اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر نشر کیے جانے کے بعد اس کی مقبولیت اور اس کے دیکھنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

اس سیریز نے کئی ایمی ایوارڈز اور گولڈن گلوب ایوارڈز جیتے ہیں۔

سیریز 2 مرکزی کرداروں کے گرد گھومتی ہے جس میں ایک غریبانہ زندگی بسر کرنے والا کیمسٹری کا استاد والٹر وائٹ ہے جو بے شمار مشکلات میں گھرا ہوا ہے لیکن ایک ذہین شخص ہے۔

دوسرا کردار جیسی پنک مین کا ہے جو ایک نالائق طالبعلم رہ چکا ہے اور اسکول سے فارغ ہونے کے بعد منشیات کے دھندے میں مصروف ہے۔

کہانی میں اس وقت ایک نیا موڑ آتا ہے جب والٹر وائٹ کو کینسر تشخیص ہوتا ہے، وہ نہ صرف اپنے علاج کے اخراجات اٹھانے سے قاصر ہے بلکہ اپنی متوقع موت کی صورت میں اپنے خاندان کے لیے بھی پریشان ہے کہ وہ کس طرح گزر بسر کریں گے۔

یہاں اس کی ملاقات اپنے پرانے طالب علم جیسی پنک مین سےہوتی ہے اور حالات کا ستایا ہوا والٹر وائٹ جیسی کے ساتھ منشیات بنانے کا دھندہ شروع کردیتا ہے۔ کیمسٹری ٹیچر اور نہایت ذہین ہونے کی وجہ سے وہ نہایت باریکی اور نفاست سے اپنے ہاتھ سے میتھمفٹامین یعنی آئس تیار کرتا ہے۔

اس کی بنائی گئی منشیات نہایت نشہ آور اور اعلیٰ معیار کی ہوتی ہے لہٰذا جلد ہی وہ منشیات نیٹ ورک کے ایک خفیہ سربراہ کے طور پر مشہور ہونے لگتا ہے جو اپنے آپ کو ہائزن برگ کہلواتا ہے۔

جیسی پنک مین اس کا دست راست ہوتا ہے۔ اب یہی جیسی پنک مین سری لنکا میں ایک کیمسٹری کی کتاب کے سرورق پر موجود ہے جسے دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین متضاد خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

تصویر میں جیسی پنک مین حفاظتی لباس پہنے ایک بڑا گلاس بریکر تھامے ہوئے ہے اور بظاہر وہ لیبارٹری میں کچھ کام کر رہا ہے، سرورق کے ایک کونے پر سائنس فار ٹیکنالوجی بھی لکھا ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ تصویر وائرل ہونے کے بعد ایک صارف نے لکھا، آخر منشیات بنانا بھی تو کیمسٹری ہے۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ اس کتاب کو لکھنے کا انداز بھی ویسا ہو جیسا پنک مین کے بولنے کا تھا۔

کچھ افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ نصابی کتاب نہیں بلکہ ایک نوٹ بک ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں