ہیکرز کے مزید دو شکار، اسکول ٹیچرز کے اکاؤنٹس خالی کر دیے -
The news is by your side.

Advertisement

ہیکرز کے مزید دو شکار، اسکول ٹیچرز کے اکاؤنٹس خالی کر دیے

چشتیاں/ جھنگ: ہیکرز نے دو مزید شہریوں کے بینک اکاؤنٹس خالی کر دیے، چشتیاں اور جھنگ میں دو سرکاری اسکول ٹیچرز کے اکاؤنٹس سے مجموعی طور پر 6 لاکھ سے زائد رقم نکالی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں بینک اکاؤنٹ ہیکرز کی وارداتیں عروج پر پہنچ گئیں، پنجاب کے شہروں چشتیاں اور جھنگ کے سرکاری اسکول ٹیچرز محمد یوسف اور رفیق ندیم کے اکاؤنٹ ہیک کر لیے۔

ہیکر نے بینک کے ہیلپ لائن نمبر سے کال کر کے پن کوڈ مانگا۔

رفیق ندیم سرکاری اسکول ٹیچر

متاثرہ اسکول ٹیچرز رفیق نے بتایا کہ انھیں ہیکرز نے بینک کے ہیلپ لائن نمبر سے کال کر کے پن کوڈ مانگا تھا، کال کرنے والوں کے پاس اکاؤنٹ کی مکمل معلومات تھیں۔

اسکول ٹیچر کا کہنا تھا کہ ہیکرز نے اے ٹی ایم کوڈ حاصل کر کے اکاؤنٹ سے 4 لاکھ 20 ہزار روپے نکال لیے۔ متاثرہ ٹیچر نے دہائی دی کہ بینک برانچ کا عملہ تعاون نہیں کر رہا، کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔

چشتیاں کے بزرگ ٹیچر محمد یوسف کے اکاؤنٹ سے ہیکرز نے 2 لاکھ 33 ہزار روپے نکالے، بزرگ استاد نے بیٹی کی شادی کے لیے پیٹ کاٹ کر پیسے جمع کیے تھے۔ دونوں کیسز میں جعل سازوں نے جعلی بینک افسر بن کر کالز کیں اور اکاؤنٹ کی تفصیل اور پن کوڈ مانگا، چشتیاں میں خاتون نے بینک آفیشل بن کر فون کیا۔


یہ بھی پڑھیں:  اے ٹی ایم استعمال کرنے والے ہوشیار، انیس ہزار سے زائد افراد کا بینک ڈیٹا چوری


خیال رہے کہ گزشتہ روز ایف آئی اے نے 19 ہزار سے زائد پاکستانیوں کا بینک ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف کیا تھا اور کہا تھا کہ ہیک شدہ کارڈز ڈارک ویب پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کے ڈیٹا کی چوری سے متعلق ایف آئی اے رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ڈیٹا چوری کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

جب کہ گزشتہ روز ہیکرز نے چنیوٹ کے شہری کا بینک اکاؤنٹ ہیک کر کے زندگی بھر کی کمائی لوٹی، عبد اللہ کے اکاؤنٹ سے ہیکر نے پونے 6 لاکھ روپے اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے۔ جب کہ دو روز قبل ہیکر نے ریٹائرڈ سائنس دان کے اکاؤنٹ سے بھی 30 لاکھ روپے نکال لیے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں