The news is by your side.

جماعت اسلامی نے شاہراہِ فیصل بلاک کرنے کا اعلان کر دیا

جماعت اسلامی نے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کو تیز کرتے ہوئے دھرنے کے ساتھ ساتھ شہر ‏بھر میں ریلیوں اور کارنر میٹنگز کے بعد شاہراہِ فیصل کو بلاک کرنے کا اعلان کر دیا۔

امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے دھرنے کے چودہویں روز خواتین سیشن اور میڈیا سے گفتگو کرتے ‏ہوئے کہا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کی ہدایت پر مذاکرات کا وعدہ کرکے جانے والے اور ‏وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں مذاکراتی کمیٹی 4 دن سے مفرور ہے اتوار کے دن شاہراہ فیصل پر ‏‏3بجے مکمل بلاک کیا جائے گا، کراچی کے تمام اضلاع سے ریلیاں نکالی جائیں گی اور شاہراہ فیصل پر انسانوں کے ‏سر ہی سر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم وڈیروں کے آگے مزاحمت کریں گے اپنے بچوں کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑیں ‏گے جماعت اسلامی کراچی کو وڈیروں اور جاگیرداروں کے قبضے سے بچائے گی، ہماری مائیں بہنیں بھی مضبوط ‏اعصاب کے ساتھ دھرنے میں موجود ہیں، سندھ اسمبلی کے سامنے مرکزی دھرنا جاری ہے جبکہ شہر کے مختلف ‏مقامات پر دھرنے دیے جارہے ہیں۔

سعید غنی کے بیان پر جماعت اسلامی کا سخت ردعمل

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ممبران کہتے ہیں کہ ہماری اکثریت ہے کراچی کے ‏ہر فرد جانتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اندرون سندھ میں اکثریت طاقت کے بل بوتے پر حاصل کی جاتی ہے، دیہی ‏وڈیرے ہاری اور کسانوں کا استحصال کرکے اب کراچی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، سندھ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ‏وڈیرے شہریوں کے شناختی کارڈ بنوا کر نہیں دے سکے۔

انہوں نے کہاکہ چودہ دن سے جاری دھرنے میں شہر بھر کی خواتین گھروں سے نکل کر سڑکوں پر احتجاج کرنے ‏پر مجبور ہیں،خواتین دھرنے سے واپس جاکر گلی محلوں اور ملازمت کی جگہ پر جماعت اسلامی کے پیغام کو ‏پہنچائیں،بلدیاتی اداروں پر صوبائی حکومت کے قبضے کا مقصد من پسند بھرتیاں کرنا ہے،بلدیاتی اداروں میں ‏شہر کے نوجوانوں کی ملازمتوں کے دروازے بند ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم صاحب ہمیں خیرات میں چند بسیں نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ کا پورا ‏نظام چاہیے پاکستان میں جتنا بھی ترقیاتی کام ہوتا ہے اس میں 50فیصد حصہ کراچی کا ہوتا ہے، جماعت اسلامی ‏نے شہر کو تعمیر کیا ہے، ترقی دی ہے اور اس کو روشن کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کے کچھ وزراء مذاکرات کے عمل کوخراب کر رہے ہیں،کیاپیپلزپارٹی کی قیادت ‏ان کی حرکتوں سے واقف ہے؟ کیا یہ الزامات قیادت کی ایما پر دے رہے ہیں؟ ہم مظلوموں کی آواز بن رہے ہیں، ‏آج بھی کارکنان وعوام مختلف علاقوں میں دھرنے دیتے ہوئے اسمبلی پہنچ رہے ہیں اب یہ تحریک آگے بڑھی گی، ‏بہت جلد شاہراہ فیصل پر تاریخی مارچ کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں