اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرکاری ملازم کی وفات کے بعد اس کی شادی شدہ بیٹی کو ملازمت نہ دینے کا فیصلہ غیر قانونی اور امتیازی قرار دینےکا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
اعلیٰ عدالت نے مرحوم والد کی جگہ بیٹی کو ملازمت کے لیے اہل قرار دے دیا، کرک سے تعلق رکھنے والی خاتون کی درخواست پر جسٹس منصور نے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
درخواست گزار کو 17مارچ 2023 کو متوفی سرکاری ملازم کے کوٹے پر ٹیچر بھرتی کیا گیا تھا، دو ماہ بعد 15 مئی2023 کو ضلعی تعلیمی افسر نے تقرری کا حکم واپس لے لیا تھا۔
وضاحتی مراسلے میں کہا گیا تھا کہ شادی شدہ بیٹی کو متوفی سرکاری ملازم کے کوٹے پرملازمت کا حق نہیں ہے۔
تحریری فیصلہ کے مطابق عورت کی شناخت، قانونی حقوق اور خود مختاری شادی کے بعد ختم نہیں ہوتی، قوانین کے تحت مرحوم یا طبی بنیادوں پر ریٹائرڈ ملازم کے تمام بچے ملازمت کے اہل ہیں۔
فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ سیکشن افسر کا ایک وضاحتی خط کے ذریعے رولز کو تبدیل کرنا غیر قانونی عمل ہے، ایسی ایگزیکٹو ہدایات قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق شادی سے عورت کی قانونی حیثیت، اس کی ذات اور خود مختاری ختم نہیں ہوجاتی، عورت کے یہ حقوق شادی پر منحصر نہیں ہوسکتے، عورت کی مالی خود مختاری ایک بنیادی حق ہے۔
آئین ازدواجی اکائیوں یا سماجی کرداروں کی بنیاد کی بجائے ہر شہریوں کو انفرادی حقوق دیتا ہے، اسلام میں بھی عورت کو اپنی جائیداد، آمدنی اور مالی معاملات پر مکمل اختیار حاصل ہے۔
پاکستان نے خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے عالمی کنونشن کی توثیق کی، ایسی روایات کو ختم کرنا چاہیے جو شادی کی بنیاد پر عورتوں کو عوامی حقوق سے محروم کرتی ہیں۔
جنرل پوسٹ آفس اسلام آباد ودیگر بنام محمد جلال کیس کے فیصلے کا اطلاق موجودہ کیس پرنہیں ہوتا، سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کا اطلاق ان تقرریوں پر نہیں ہوتا جو پہلے ہی کی جا چکی ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے عمومی طور پر آئندہ کے لیے لاگو ہوتے ہیں، خاتون کو نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے، متعلقہ محکمہ درخواست گزار کی تقرری کو تمام سابقہ مراعات کے ساتھ بحال کرے۔