The news is by your side.

Advertisement

جوبائیڈن نے ڈیموکریٹ صدارتی امیدواروں کو پیچھے چھوڑ‌دیا

واشنگٹن : امریکی صدارتی انتخابات میں حصّہ لینے کےلیے ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں سابق نائب صدر جوبائیڈ نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹ صدارتی نامزدگی کے لیے کانٹے کا مقابلہ جاری ہے، سابق نائب صدر جوبائیڈن تیزی سے عوام میں مقبولیت پارہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ نیویارک کے میئر مائیکل بلومبرگ بھی جوبائیڈن کے حق میں دستبردار ہوچکے ہیں، امیدوار جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ صدارتی نامزدگی کیلئے بلوم برگ کی حمایت اورمالی تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

سابق امریکی نائب صدر جوبائیڈن کے حق میں دستبردار امیدواروں کی تعداد 3 ہوگئی، سپر ٹیوز ڈے پر جو بائیڈن 9 اور برنی سینڈر صرف 3 ریاستوں میں کامیاب ہوئے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جوبائیڈن کو 566 اور سینیٹر برنی سینڈر کو اب تک 501 ڈیلی گیٹس کی حمایت حاصل ہوچکی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 9 مباحثوں میں 78 سالہ سینیٹر برنی سینڈرز مقبولیت میں سب سے آگے ہیں، تاہم سینڈرز کو ماضی کے بیانات کے باعث مباحثے میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، اس دوران سابق نائب صدر جوبائیڈن نے بھی مباحثے میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی۔

جوبائیڈن نے کئی ریاستوں میں ڈیموکریٹ پرائمری الیکشن جیت لیا

خیال رہے کہ ڈیموکریٹ کی جانب سے جو بائیڈن، مائیکل بلومبرگ، پیٹ بیٹی جیج، تلسی گبرڈ، ایمی کلوبچر، برنی سینڈرز، ٹام اسٹائر، الزبتھ وارن کے درمیان مقابلہ جاری ہے، جب کہ ری پبلکنز میں روک ڈی لا فونٹے، ڈونلڈ ٹرمپ اور بل ویلڈ کے درمیان مقابلہ ہے۔ ڈیموکریٹس کے درمیان مقابلہ تیزی سے سکڑتا جا رہا ہے، رواں سال جب یہ مباحثہ شروع ہوا تھا تو 25 سے بھی زیادہ امیدوار تھے جو اب 8 رہ گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں