The news is by your side.

Advertisement

اردن: متنازعہ انکم ٹیکس قانون واپس لے لیا جائے گا’ نامزد وزیر اعظم

عمان: اردن کے سابق وزیر اعظم ’حانی الملکی‘ کے مستعفی ہونے کے بعد نئے نامزد وزیر اعظم ’عمر الرزاز‘ نے کہا ہے کہ ہم متنازعہ انکم ٹیکس قانون واپس لے لیں گے۔

تفصیلات کے مطابق اردن میں ان دنوں حکومتی پالیسی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر ملک کو بحران سے نکالے اور عوام پر ناجائز انکم ٹیکس میں اضافے کا قانون واپس لے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اردن کے نامزد وزیر اعظم عمر الرزاز نے آج پارلیمانی میٹنگ کی اس دوران ملک میں جاری بحران اور متنازعہ قانون پر عوامی ردعمل کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد انکم ٹیکس قانون کو واپس لینے پر اتفاق کر لیا گیا۔


عمر رزاز اردن کے نئے وزیر اعظم نامزد


میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر الرزاز کا کہنا تھا کہ ہم خطے کو بحران سے نکالنا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم اس متنازعہ قانون کو واپس لے رہے ہیں، اس قانون کی وجہ سے اردن میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور جس کی وجہ سے حکومت پر دباؤ بڑھایا گیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں سابق وزیر اعظم حانی الملکی کی سربراہی میں عالمی مالیاتی فنڈ کی پالیسیوں کی روشنی میں یہ متنازعہ قانون تشکیل دیا گیا تھا، جس پر ناقدین نے کہا تھا کہ اس قانون کے اطلاق سے شہریوں کی معیار زندگی متاثر ہو جائے گی۔


بے روزگاری میں اضافے کے خلاف مظاہرہ، اردن کے وزیر اعظم مستعفی


خیال رہے کہ اردن کی معیشت اس وقت حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہے، علاوہ ازیں مملکت میں بے روزگاری کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی معاشی ماہرین یہ خیال ظاہر کررہے ہیں کہ نئے آنے والے وزیر اعظم کو بھی ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے بہت محنت کرنا پڑے گی اور اہم فیصلے لینے ہوں گے تاکہ تباہ ہوتی معیشت بچائی جاسکے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں