The news is by your side.

Advertisement

جوش ملیح آبادی: جنہوں‌ نے بھارت کو ٹھکرا کر پاکستان کا انتخاب کیا

برصغیر کے عظیم انقلابی شاعراورمرثیہ گو’جوش ملیح آبادی‘ کو ہم سے بچھڑے 38 برس کا عرصہ بیت گیا۔

جوش ملیح آبادی  5 دسمبر1898ء میں بھارتی ریاست اترپردیش کے علاقے ملیح آباد کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شبیر حسن خان تھا۔

آپ کے والد نواب بشیر احمد خان، دادا نواب محمد احمد خاں اور پر دادا نواب فقیر محمد خاں گویا سب ہی صاحبِ دیوان شاعر تھے۔

جوش ملیح آبادی نے 9 برس کی عمر میں پہلا شعر کہا، ابتدا میں انہوں نے اصلاح کے لیے عزیز لکھنؤی کی خدمات حاصل کیں پھر کچھ عرصے بعد ہی آپ اپنی رہنمائی خود ہی کرنے لگے، انہوں نے عربی کی تعلیم مرزا ہادی رسوا سے جبکہ فارسی اور اردو کی تعلیم مولانا قدرت بیگ ملیح آبادی سے حاصل کی۔

انہوں نے 1914ء میں آگرہ سینٹ پیٹرز کالج سے سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا۔

جوش ملیح آبادی انقلاب اور آزادی کا جذبہ رکھنے والے روایت شکن شاعر تھے انہوں نے 1925ء میں عثمانیہ یونیورسٹی میں مترجم کے طور پرکام شروع کیا اور ’کلیم‘ کے نام سے ایک رسالے کے اجرا کا آغاز کیا اور اسی دوران انہیں شاعر انقلاب کے لقب سے پذیرائی ملی۔

ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روزِ حساب تیرا

پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا

تقسیمِ ہند کے چند سال بعد جوش اپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان کے دارالحکومت کراچی منتقل ہوئے اور یہی مستقل سکونت اختیار کی۔ جوش نہ صرف اردو میں ید طولیٰ تھے بلکہ انہیں عربی، فارسی، ہندی اورانگریزی زبانوں‌ پر بھی خاصی دسترس حاصل تھی۔

خداداد لسانی صلاحیتوں کے باعث انہوں نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپورعلمی معاونت فراہم کی۔

عشاقِ بندگانِ خدا ہیں خدا نہیں

تھوڑا سانرخِ حسن کو ارزاں تو کیجئے

اُن کے نثری مجموعوں میں ’یادوں کی بارات‘،’مقالاتِ جوش‘، ’دیوان جوش‘اور شعری مجموعوں میں جوش کے مرثیے’طلوع فکر‘،’جوش کے سو شعر‘،’نقش و نگار‘ اور’شعلہ و شبنم‘ شامل ہیں۔

عمدہ شاعری اور انقلابی طرز تحریر کی وجہ سے جوش کی تمام ہی تصانیف کو خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔

رُکنے لگی ہے نبضِ رفتارِ جاں نثاراں

کب تک یہ تندگامی اے میرِشہسواراں

اٹھلا رہے ہیں جھونکے، بوچھار آرہی ہے

ایسے میں تو بھی آجا، اے جانِ جاں نثاراں

کراچی میں 1972ء میں شائع ہونے والی جوش ملیح آبادی کی خود نوشت یادوں کی برات ایک ایسی کتاب ہے جس کی اشاعت نے ہندو پاک کے ادبی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں زبردست واویلا مچا دیا تھا۔

یہ حقیقت ہے کہ جوش کو ان کی خود نوشت کی وجہ سے بھی بہت شہرت حاصل ہوئی کیونکہ اس میں بہت سی متنازع باتیں کہی گئیں۔

اس دل میں ترے حسن کی وہ جلوہ گری ہے

جو دیکھے وہ کہتا ہے کہ شیشے میں پری ہے

ستر کی دہائی میں جوش کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوئے، 1978ء میں انہیں ایک متنازع انٹرویو کے بعد ذرائع ابلاغ میں بلیک لسٹ کردیا گیا مگر کچھ ہی دنوں بعد ان کی مراعات بحال ہوئیں۔

اردو ادب کا درخشندہ ستارہ 22 فروری 1982ء کو دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگیا جس کے بعد انہیں وفاقی اسلام آباد میں ہی آسودہ خاک کیا گیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں