کالاش قبیلے کے سالانہ تہوار’چلم جوشی‘ کا آغاز ہوگیا -
The news is by your side.

Advertisement

کالاش قبیلے کے سالانہ تہوار’چلم جوشی‘ کا آغاز ہوگیا

چترال میں بین الاقوامی اہمیت کے حامل کالاش قبیلے کے سالانہ تہوار جوشی (چیلم جوش )کا آغاز ہوگیا ہے، تہوار میں شرکت کےلیے دنیا بھر سے سیاح پاکستان پہنچ چکے ہیں، یہ تہوار موسمِ بہار کے استقبال کے لیے منایا جاتا ہے۔

تفصیلات کےمطابق آج 14 مئی کو شروع ہونے والا یہ تہوار 16 مئی تک جاری رہے گا ، اس تین روزہ تہوار میں کا لاش کے رہنے والے اپنی روایات اور عقائد کے مطابق بہار کی آمد کے اس جشن کو منائیں گے، جشن دیکھنے کے لیے سیاحوں کی کثیر تعداد چترال پہنچ چکی ہے جن کے لیے انتظامیہ کی جانب سے مفت ٹینٹ ولیج کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔کالاش قبیلے کے خواتین وحضرات اس جشن میں مل کر رقص گاہ میں روایتی رقص پیش کرتے ہیں ۔تہوار کے آخری روز کالاش مرد دوسرے میدان میں جمع ہوکر اکھٹے ہوجاتے ہیں، جہاں وہ اخروٹ کے ٹہنیاں ، پتے اور پھول ہاتھوں میں لے کر انہیں لہرا لہرا کر اس میدا ن کی طرف دھیرے دھیرے چلتے ہیں جہاں خواتین بھی ہاتھوں میں سبز پتے پکڑ کر انہیں لہراتے ہوئے ان کی انتظار کرتی ہیں۔

اس رسم کے موقع پرکسی بھی غیر مقامی یا غیر مذہب کے شخص کو ان کی راہ میں رکاوٹ بننے یا سامنے آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ جب یہ گروہ خواتین کے قریب پہنچ جاتے ہیں تو وہ پتے اور پھول ان پر نچاور کرتی ہیں اور ایک ہی وقت میں یہ پتے خواتین پر پھینکتے ہیں جبکہ خواتین مردوں پر یہ پتے پھینک دیتی ہیں اور سب مل کر رقص کرتے ہیں۔

جوشی تہوار کے آخری دن وادی میں چاہنے والے نئے جوڑے بمبوریت سے بھاگ کر شادی کا اعلان بھی کرتے ہیں ، فیسٹیول ختم ہونے کے چند دن بعد پتا چلتا ہے کہ اس مرتبہ کتنے جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ یاد رہے کہ کالاش کی روایت کے مطابق نوجوان لڑکے لڑکیوں کو اپنی پسند سے شادی کرنے کی آزادی میسر ہے اور کوئی بھی اس پر اعتراض نہیں کرتا ہے۔

اس سال کالاش کی تینوں وادیوں میں صفائی مہم بھی چلائی کی جائے گی جبکہ ساتھ ہی فیسٹیول میں آنے والے سیاحوں کے لیے فری کیمپنگ ویلیج کا بھی اہتمام کیاہے تاکہ سیاح اس سے مستفید ہوسکیں۔

فیسٹیول کے آغاز سے قبل ہی موٹر بائیکرزاسلام آباد سےبراستہ مردان سفر کرتے ہوئے چترال اور اس کے بعد کالاش پہنچ گئے ہیں ، جشن کے موقع پر بائیک ریلی کا بھی انعقاد کیا گیا ہے، جس میں 10سے زائد کھلا ڑی حصہ لےرہے ہیں جنہوں نے دشوار گزار راستوں پر چترال اورپھر کالاش تک کا سفر طے کیا۔ موٹربائیک ریلی کا مقصددنیا کو پیغام دینا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا پرامن شہر ہے اور یہاں سیاح باآسانی بغیر کسی خوف کے ملک میں کسی بھی جگہ سیر و تفریح کرسکتے ہیں۔

ہزاروں سال قدیم تہذیب‘ کالاش قبائل کا ذریعۂ معاش بن گئی

کالاش قبائل کی ثقافت یہاں آباد دیگر قبائل میں سب سے جداگانہ خصوصیات کی حامل ہے۔ ان کی ثقافت مقامی مسلم آبادی سے ہر لحاظ سے بالکل مختلف ہے اور اس ثقافت کو دیکھنے کے لیے دنیا کے مختلف حصوں سے سیاح بڑی تعداد میں کالاش وادی میں آتے ہیں۔

یہ قبائل مذہبی طور پر کئی خداؤں کو مانتے ہیں اور ان کی زندگیوں پر قدرت اور روحانی تعلیمات کا اثر رسوخ ہے۔ یہاں کے قبائل کی مذہبی روایات کے مطابق قربانی دینے کا رواج عام ہے جو ان کی تین وادیوں میں خوشحالی اور امن کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔کالاش قبائل میں مشہور مختلف رواج اور کئی تاریخی حوالہ جات اور قصے عام طور پر روم قدیم روم کی ثقافت سے تشبیہ دیے جاتے ہیں۔ گو وقت کے ساتھ ساتھ قدیم روم کی ثقافت کے اثرات میں کمی آئی ہے اور اب کے دور میں زیادہ تر ہند اور فارس کی ثقافتوں کے زیادہ اثرات واضع ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں