site
stats
پاکستان

حویلیاں طیارہ حادثہ، جنید جمشید کو بچھڑے ایک برس بیت گیا

کراچی: دل دل پاکستان سے میرا دل بدل دے تک قوم کے دلوں پر راج کرنے والے جنید جمشید کو ہم سے بچھڑے ایک برس کا عرصہ  بیت گیا۔

تفصیلات کے مطابق سن 7 دسمبر دوہزار سولہ کو جنید جمشید قومی ائیرلائن پی کے 661 کی پرواز کے ذریعے چترال سے واپس آرہے تھے کہ حویلیاں کے مقام پر طیارے کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں معروف مبلغ سمیت تمام ہی 47 مسافر شہید ہوگئے تھے، جہاز پھٹنے کی وجہ سے لاشوں کی شناخت کا عمل ڈین این اے کے ذریعے کیا گیا تھا۔

بدقسمت طیارے میں سوار جنید جمشید کا یہ سفر 2016 کا آخری ثابت ہوا جس کے بعد اُن کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی تاہم اُن کا انداز آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

مزید پڑھیں: جنید جمشید کا سفر زندگی

جنید جمشید کا کیریئرکاعروج تھا کہ اللہ نے انہیں دین کی راہ دکھادی جس کے بعد انہوں  نے موسیقی کو خیرباد کہا اوراللہ والوں سے ناطہ جوڑ لیا۔ تبلیغی جماعت سے وابستگی کے بعد جنید جمشید دین کی عالی محنت کے لیے دیس دیس گئے اور اسی دوران انہوں نے حمد و ثناء و نعت خوانی کا آغاز بھی کیا۔

اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہونے والی رمضان نشریات میں وسیم بادامی کے ساتھ جنید جمشید کے انداز نے بھی لوگوں کے دلوں میں گھر کیے، بیت بازی کا مقابلہ ہو، سوال جواب کی نشست یا پھر افطار اور سحر کے اوقات کی دعائیں جنید جمشید پیش پیش نظر آتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جنید جمشید کے صاحبزادے کا والد کو جذباتی کلام سے خراج تحسین

گزشتہ برس 7 دسمبر کو لوگوں کے دلوں پر راج کرنے اور پاکستان کی پہچان بننے والے جنید جمشید ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہوگئے مگر اُن کی آواز آج بھی دلوں میں بسی ہوئی ہے۔

واضح رہے معروف مبلغ جنید جمشید کی پیدائش 3 ستمبر 1964 کو کراچی میں ہوئی، والد کا تعلق پاکستان ائیرفورس سے ہونے کے باعث آپ کے والد نے ابتدائی طور پر کوشش کی کہ آپ کو اُسی شعبے سے وابستہ رکھا جائے۔

یونیورسٹی دور میں میوزک سے لگاؤ ہونے کے بعد دوستوں کے ساتھ مل کر ایک بینڈ تشکیل دیا، جس نے 1983 میں پشاور اور پھر اسلام آباد یونیورسٹی میں اپنی فن کا مظاہرہ کیا،  بعد ازاں اس چھوٹے سے بینڈ وائٹل سائنس نے دنیا بھر میں نام روشن کیا اور دل دل پاکستان جیسے مشہور قومی نغموں کو تخلیق کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top