17.3 C
Ashburn
ہفتہ, مئی 18, 2024
اشتہار

جسٹس فائز عیسیٰ نے رضاکارانہ طور پر اپنے اور اہل خانہ کے اثاثے ظاہر کر دیے

اشتہار

حیرت انگیز

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رضاکارانہ طور پر اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر کر دیے۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی گئیں۔ دستاویزات کے مطابق ان کی 2018ء میں آمدن 1 کروڑ 51 لاکھ 13 ہزار 972 روپے تھی جبکہ اس دوران 22 لاکھ 916 روپے ٹیکس ادا کیا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور بطور جج سپریم کورٹ کوئی سرکاری پلاٹ نہیں لیا۔ انہیں سرکاری پلاٹس کی آفرز ہوئیں لیکن ٹھکرا دیں۔

- Advertisement -

دستاویزات میں انہوں نے بتایا کہ ’یری ملکیت میں ڈی ایچ اے فیز ٹو کراچی کا 800 مربع فٹ رہائشی پلاٹ ہے جو میں نے بطور وکیل پریکٹس کے پیسوں سے لیا۔ اس دوران میں نے ڈی ایچ اے کراچی فیز 5 میں 200 مربع فٹ کا کمرشل پلاٹ خریدا جبکہ کنال روڈ لاہور میں میرا ایک پرانا گھر کرایے پر دے رکھا ہے۔‘

2019ء میں جسٹس فائز عیسیٰ کی سالانہ آمدن 1 کروڑ 71 لاکھ 45 ہزار 972 روپے تھی اور اس وقت ان کے اکاؤنٹ میں 4 کروڑ 13 لاکھ 30 ہزار 856 روپے ہیں جبکہ فارن کرنسی بینک اکاؤنٹ میں 41 لاکھ روپے سے زائد موجود ہیں۔

دستاویزات میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ میری ملکیت میں 2 کاریں اور ایک منی جیپ ہے، مجھے سرکاری طور پر 2 گاڑیاں اور 600 لیٹر پیٹرول ملتا ہے، وزارت داخلہ کے اجازت نامہ کے باوجود میں نے ممنوعہ اسلحہ رکھنے سے انکار کیا، مجھے ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری طور پر 2 ہزار یونٹس بجلی اوت 25 ایچ ایس ملیں گے جبکہ 300 لیٹر پیٹرول مفت ملے گا۔

ویب سائٹ پر جاری دستاویزات میں انہوں نے بتایا کہ میری اہلیہ سرینہ عیسیٰ میرے زیر کفالت نہیں ہیں، زیارت میں قائد اعظم کی رہائشگاہ کے ساتھ پلاٹ مجھے والد سے ورثے میں ملا۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں