The news is by your side.

اداروں پر نہیں شخصیات پر تنقید کریں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ اداروں پر تنقید نہ کریں بلکہ شخصیات پر تنقید کریں۔

کراچی میں منعقد ایک تقریب سے خطاب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب اصولوں پر سمجھوتہ ہوتا ہے تو فیصلہ طویل ہوتا ہے، سچی اور اصولی بات کم لفظوں میں کہی جاتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 950 پیراگراف پر مشتمل ایک فیصلہ تھا جس پر شرمندگی ہوتی ہے، اس فیصلے میں وزیر اعظم کو سزائے موت سنائی گئی تھی، 2007 کی تحریک میں سب سے زیادہ کراچی نے قربانی دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کنٹینرازم سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا، اس سے پہلے کسی بھی تحریک کو کنٹینر سے نہیں روکا جا سکتا تھا۔

سپریم کورٹ کے جج نے کہا: ’ملک کا ہر شہری چاہتا ہے کہ عدلیہ آزاد ہو۔ عدلیہ کا کام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ وکلا کا لہو پاکستان کا تحفظ کرتا ہے۔ وکلا کو حکومت کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہیے۔‘

اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ججز کو کسی کے دباؤ میں آ کر سزائے موت نہیں دینا چاہیے، بار کونسل اور ایسوسی ایشن کو خود مختار ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوال کرنے کا حق دیں پھر فیصلے پر بھرپور تنقید کریں، ایک کیس کے علاوہ میں نے توہین عدالت کیسز نہیں سنے، آپ کو حق ہے کہ آپ مجھ سے سوال جواب کر سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں