The news is by your side.

Advertisement

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس،سپریم کورٹ کے ججز میں اختلاف

اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس میں سپریم کورٹ کے ججز میں اختلاف ہوگئے ہیں، ایک جج نے بینچ سے اٹھ کر جانے کی دھمکی دے ڈالی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں مسلسل تیسرے روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی بینچ نے سماعت کی، سماعت کے دوران ججز میں اختلاف ہوئے اور بینچ میں شامل جسٹس سجاد علی شاہ نے بینچ سے اٹھ کر جانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ بار بار وکیل کو ٹوکتے رہے تو میں اٹھ کر چلا جاؤں گا، جس پر جسٹس مقبول باقر نے بھی کہا کہ اٹھ کر تو میں بھی جا سکتا ہوں۔

اس موقع پر حکومتی وکیل نے بینچ سے گزارش کی کہ مناسب ہوگا کہ عدالت دس منٹ کا وقفہ کرلے، جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ دس منٹ کے وقفے سے کیا ہوگا؟، بعد ازاں سماعت کے دوران دس منٹ کا وقفہ کیا گیا، وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی بات جسٹس مقبول باقر کو بری لگی تو معافی چاہتا ہوں، جس پر بینچ کےسربراہ جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دئیے کہ جسٹس مقبول باقر اس بینچ کے چہیتے جج ہیں۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز نظر ثانی کیس کی سماعت کل تک کے لئے ملتوی کردی۔

سماعت ملتوی ہونے سے قبل ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اپنے دلائل میں کہا کہ حج کرپشن کیس ملزمان کو سنے بغیر تحقیقات کیلئےبھیجا گیا تھا جبکہ سرینا عیسیٰ کا موقف توعدالت نے ویڈیو لنک پر سنا تھا۔

اس موقع پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطابندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو دلائل مکمل کرنےکیلئےکتنا وقت درکار ہوگا؟ وقت محدود کا مطلب یہ نہیں کسی کو مؤقف سے روکیں، ججز کچھ وضاحت چاہتے ہیں تو سوال بھی کریں گے، سب کو کوشش کرنی چاہیےکہ ہم جذباتی نہ ہوں،سپریم کورٹ کیلئےیہ حساس ترین کیس ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے سوالوں کا جواب دے دیا

اس موقع پر عامر رحمان نے کہا کہ حامد خان نے جو نقاط اٹھائےہیں ان کا جواب دوں گااور کوشش کروں گا کل اپنے دلائل مکمل کر لوں۔

بعد ازاں جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اےجی عامر رحمان کو ہدایت کی کہ ٹیکس کمشنر ذوالفقار احمد کا حکم بھی کل عدالت عظمیٰ میں جمع کرائیں، یہ بھی بتائیے گا کیا نظر ثانی میں ٹیکس کمشنر کا حکم دیکھ سکتے ہیں؟۔

Comments

یہ بھی پڑھیں