The news is by your side.

Advertisement

کے الیکٹرک نے وزیر خزانہ کا دعویٰ مسترد کر دیا

کراچی: وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے بیان کے بعد کے الیکٹرک نے جنوری سے جون تک سینٹرل پاور پرجیزنگ ایجنسی کو دی جانے والی ادائیگی کی تفصیلات جاری کر دیں۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آج کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کے الیکٹرک وفاق سے مفت میں بجلی لے رہا ہے، ایک سال سے کے الیکٹرک نے کوئی ادائیگی نہیں کی۔

کے الیکٹرک نے وزیر خزانہ کے مذکورہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری سے جون 2022 کے دوران بجلی سپلائی کی مد میں 63 بلین روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، کے الیکٹرک اور حکومتی اداروں کے درمیان وصولیاں اور ادائیگیاں ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر خزانہ کا کے الیکٹرک سے متعلق اہم انکشاف

ترجمان نے کہا: ’جون 2022 تک متعدد وفاقی اور صوبائی حکومتی اداروں نے کے الیکٹرک کو واجبات کی مد میں 365.6 بلین روپے کی ادائیگیاں کرنی ہے، ان میں سب سے زیادہ یعنی 316.4 بلین روپے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کلیمز کی مد میں کے الیکٹرک کو قابل وصول ہیں، حکومت اور کے الیکٹرک کے درمیان معاہدے کے مطابق کمپنی کو ٹیرف ڈفرینشل سبسڈیز کی قابل وصول رقم 25 یوم کے اندر ادا ہونا ہوتا ہے‘۔

کے الیکٹرک نے کہا کہ ہمیں بھی مختلف اداروں کو تقریباً 344.7 بلین روپے کی ادائیگیاں کرنی ہیں، ان میں کے الیکٹرک سے سی پی پی اے / این ٹی ڈی سی کو 290.9 بلین روپے کی ادائیگیاں بھی شامل ہے۔

ترجمان نے کہا کہ کے الیکٹرک کو سی پی پی اے / این ٹی ڈی سی وغیرہ کو ادائیگیوں کے بعد بھی حکومت سے تقریباً 21 بلین روپ قابل وصول ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں