The news is by your side.

Advertisement

سانحہ گلبہار، گرنے والی عمارت کے بلڈر کے سنسنی خیز انکشافات

کراچی: شہر قائد کے علاقے گلبہار میں گرنے والی عمارت کے بلڈر جاوید یونس کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی کے علاقے گلبہار میں گرنے والی عمارت کے بلڈر جاوید یونس کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ روپے فی چھت ایس بی سی اے افسران کو رشوت دیتا تھا۔

ملزم بلڈر جاوید یونس کا کہنا ہے کہ 1998 میں عمارت تعمیر کی تھی، اب بھی رشوت چل رہی ہے، پورا کراچی غیرقانونی ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل گلبہار میں گرنے والی عمارت کے بلڈر جاوید کو پنجاب سے گرفتار کیا گیا تھا، پولیس کا کہنا تھا کہ جاوید بلڈر حادثے کے بعد سے مفرور تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی میں گرنے والی عمارت کا بلڈر پنجاب سے گرفتار

پولیس کا کہنا تھا کہ حادثے کے وقت جاوید بھی بلڈنگ میں فیملی کے ساتھ موجود تھا، حادثے میں ملزم جاوید کے علاوہ اس کا بیٹا بھی شدید زخمی ہوا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ جاوید بلڈر کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، وہ اسپتال سے پنجاب فرار ہوگیا تھا، ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے ٹیکنیکل سہولیات کی بنا پر ملزم کو ٹریس کیا تھا۔

یاد رہے کہ گلبہار میں عمارت گرنے کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق اور 23 زخمی ہوگئے تھے۔

گلبہار سانحے میں 27 افراد کی اموات کے بعد پولیس نے ایس بی سی اے کے تین افسران کو اعانت کرنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ گرفتار افسران میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سرفراز بھی شامل ہیں، اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقصود قریشی، بلڈنگ انسپکٹر عرفان علی کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں