کراچی میں مردم شماری متازعہ ہونے کا خدشہ Karachi Census
The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں مردم شماری متنازع ہونے کا خدشہ

کراچی: ادارہ شماریات نے شہر قائد میں مردم شماری کے لیے 8 سال پرانے اعداد و شمار اور نقشے ٹیموں کو جاری کردیے جس کے بعد آبادی میں رہائشی لاکھوں افراد کو مردم شماری میں شامل نہ کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ادارہ شماریات نے کراچی میں مردم شماری کے لیے پرانے اعداد وشمار جاری کرتے ہوئے  سال 2008 اور 2009 کے نقشے فراہم کردیئے جبکہ 2008 کے بعد شہر میں چائنا کٹنگ  ہوئی،ندی نالے آبادیوں میں تبدیل ہوئے۔

ادارہ شماریات سے جاری پرانے نقشوں میں پارک، میدان، اسکولوں، فٹ پاتھوں پر قائم آبادی نہیں دکھائی گئی اور کراچی میں تعمیر ہونے والی کثیر المنزلہ عمارتوں کا کہیں تذکرہ نہیں کیا گیا۔

محکمہ شماریات سے جاری ریکارڈ میں ایسے فلیٹس کم منازل کے طور پر شامل ہیں اور غیر قانونی رہائشی اور تجارتی اسکیمو ں کو  نقشوں میں شامل ہی نہیں کیا گیا، ذرائع کے مطابق اگر پرانے نقشوں کے حساب سے خانہ شماری کی گئی تو شہر قائد میں مقیم لاکھوں افراد کی گنتی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ آج ملک بھر میں 19 سال بعد چھٹی مردم شماری کا آغاز کیا گیا، پہلے مرحلے میں چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور کشمیر گلگت سمیت 63اضلاع میں13 اپریل تک کام مکمل ہو جائے گا۔

کراچی میں 18 مارچ تک خانہ شماری اور پھر فارم 2 کا اندراج کرایا جائے گا،  پہلے مرحلے کی مردم شماری و خانہ شماری 13 اپریل کو مکمل ہوگی، جس کے بعد ملک کے دیگر حصوں میں دوسرا مرحلہ 25 اپریل سے شروع ہو کر 24 مئی کو ختم ہوگا۔

محکمہ شماریات نے کراچی کو 35 سب ڈویژن میں تقسیم کیا ہے، فیلڈ اسٹاف میں 2 پولیس، 2رینجرز اہلکار اور ایک فوجی جوان شامل ہیں جبکہ 15943 فیلڈ اسٹاف مردم شماری کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ محکمہ شماریات نے کراچی کے ضلع غربی ملیراور ضلع وسطی کو حساس قراردیا گیا ہے۔

یہ پڑھیں: شہری علاقوں کے ساتھ دھاندلی کی جا رہی ہے، فاروق ستار کاخط

دوسری جانب کراچی کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے مردم شماری کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے جبکہ دیگر جماعتوں نے بھی شفاف مردم شماری کا مطالبہ کردیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں