The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا کراچی سرکلر ریلوے کو مکمل بحال کرنے کا حکم

کراچی: چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے کراچی سرکلر ریلوے کی مکمل بحالی کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں آج اہم کیسز کی سماعت جاری رکھے ہوئے ہیں، ان میں کراچی سرکلر ریلوے کی مکمل بحالی کا کیسز بھی زیر سماعت آیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ کے سی آر کہاں تک پہنچی، جس کے جواب میں ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ لوکل ٹرین ،کے سی آر الحمد اللہ ٹھیک چل رہی ہیں، سرکلر ریلوے کے لیے انڈر پاسز بنائے جا رہے ہیں ساتھ ہی ماس ٹرانزٹ پلان بھی بنایا جا رہا ہے۔

اس موقع پر سیکریٹری ریلوے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ گرین لائن زیر تعمیر ہے، یہاں ریلوے اراضی کا کچھ تنازع ہے، ستر فیصد کراچی سرکلر ریلوے مکمل چل سکتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے سیکریٹری ریلوے کو حکم دیا کہ آپ کراچی سرکلر ریلوے چلائیں، سندھ حکومت سے بات کریں ، کےسی آر کو 100 فیصد چلائیں، کچھ تنازعات ہیں تو انہیں حل کرانا آپ کا کام ہے، کراچی سرکلر ریلوے کو مکمل بحال کرنے کے اقدامات کریں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے ریلوے اراضی کی زمینوں پر قائم قبضے فوری ختم کرانے اور ریلوے کو تمام زمینیں واگزار کرانے کا بڑا حکم دیا، اپنے حکم نامے میں سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ ریلوے خود آپریشن کرے اور تمام اراضی واگزار کرائے۔

عدالت عظمیٰ نے ڈی جی رینجرز کو ریلوے حکام کی مدد کرنے اور آئی جی سندھ کو بھی آپریشن میں سیکورٹی دینے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ریلوے کی لیز پر دی گئی اراضی بھی خالی کرائی جائیں۔

عدالتی حکم میں کہا کیا کہ لیز پر دی گئی اراضی کو واپس لینے کا طریقہ کار بنایا جائے، اس موقع پر سیکریٹری ریلوے کا قبضے ختم کرانے پر اظہار بےبسی کرتے ہوئے بتایا کہ رینجرز کی مدد چاہیے ورنہ قبضے ختم نہیں کرائےجا سکتے، ریلوے کی زمینیں واگزار کرانے کے دوران ہمارے کئی ملازمین آپریشن زخمی بھی ہوچکے، ہمارے لیے بہت سے مسائل ہیں، دھمکی آتی ہیں۔

سپریم کورٹ کا تیجوری ہائٹس کو تحویل میں لینے کا حکم

دوران سماعت عدالت نے شہر کے قیمتی رہائشی منصوبے کے خلاف بڑا حکم دیا، سپریم کورٹ نے کمشنر کراچی کا حکم دیا کہ تیجوری ہائٹس کو فوری طور پر تحویل میں لیا جائے، عدالت نے تیجوری ہائٹس منصوبےکی تعمیرات پر کام روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ حکم تک تیجوری ہائٹس کمشنر کراچی کی تحویل میں رہے گا۔

اس سے قبل تیجوری ہائٹس بنانے کیخلاف ریلوے کی درخواست پر سماعت کے دوران ریلوے حکام، رضا ربانی اور بینچ میں گرما گرمی ہوئی، تیجوری ہائٹس منصوبے کی جانب سے رضا ربانی کیس کی پیروی کررہے تھے۔اس موقع پر سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسٹیشن زمین پر عمارت بن گئی تو سرکلرریلوےنہیں بن سکتی، جس پر رضا ربانی نے کہا کہ یہ زمین ریلوے کی ہے ہی نہیں، رضا ربانی کے دلائل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کیا آپ اپنی پارٹی سےکوئی وعدہ کرکے آئے ہیں؟ رضاربانی نے کہا کہ میرے وقار اور عزت نفس پر ریمارکس نہ دیے جائیں، میں کیس لڑ رہا ہوں اور دلائل دینا چاہتا ہوں۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ رضا ربانی صاحب ہم وہی کہہ رہے ہیں جو آج کل عدالتوں میں ہورہاہے، وکلا پارٹیوں سےوعدہ کرکے عدالت آتے ہیں، پھر ہمیں کونسل کو کچھ یاد دلانا پڑتا ہے، دستاویز سے ثابت ہے کہ یہ زمین ریلوے کی ہے، رضا ربانی صاحب یہ سب جعلی دستاویزبنے ہوئے ہیں اور  ہمیں معلوم ہے یہ دستاویزات کیسے بنتے ہیں؟

Comments

یہ بھی پڑھیں