site
stats
پاکستان

کراچی میں فائرنگ اور دیگر واقعات میں پیش امام سمیت 2 افراد ہلاک

کراچی : شہر قائد میں فائرنگ اور پرتشددواقعات میں پاکستان علماء کونسل کراچی کے صدر مولانا حبیب جاں بحق ہوگئے ۔

ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق گلستان جوہر بلاک 7 صدیق اکبر مسجد میں مسلح افراد کی فائرنگ سے پاکستان علماء کونسل کراچی کے صدر مولانا حبیب جاں بحق ہوگئے ، پولیس کے مطابق وقوعہ سے دو گولیوں کے خول ملے ہیں۔

ایس ایچ او چوہدری شاہد کے مطابق عینی شاہد نے بیان دیا ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص کا نام معراج ہے جبکہ ڈی ایس پی ناصر لودھی کا کہنا ہے کہ ہم نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم معراج کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے تاہم اس نے ابھی تک قتل کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ فرقہ واریت ہے یا کوئی زاتی رنجش اس حوالے سے تحقیات جاری ہیں، مقتول کا تعلق رحیم یار خان جنوبی پنجاب سے تھا اور گزشتہ 15سالوں سے وہ مذکورہ مسجد سے وابستہ تھے اور تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کے والد تھے۔

دوسری جانب سچل کے علاقے میں موسمیات چورنگی کے قریب سرکاری کیش لوٹنے کے دوران فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوااور ایک زخمی ہوا، جبکہ فائرنگ کرنے والے شخص کو بھی زخمی حالت مین گرفتار کرلیاگیا ہے ، پولیس کے مطابق جاں بحق شخص کی شناخت ادریس اورزخمی کی شناخت فیصل کے نامو ں سے ہوئی ہے ، دونوں سرکاری اہلکار ہیں جبکہ ڈاکو کو بھی زخمی حالت میں گرفتار کرلیاگیا ہے۔

سعیدآباد تھانے کی حدود نیول کالونی میں منگل کی صبح26سالہ شفیق ولد جمل بلوچ نے مبینہ طور پر اپنے گھر کی چھت سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی،متوفی کی لاش کو سول اسپتال منتقل کیا گیا۔ایس ایچ او غفار کورائی کے مطابق متوفی نے پہلے اپنے ہاتھ کی نس کاٹی اور اسکے بعد چھت سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔

ایس ایچ او کے مطابق متوفی نے مرنے سے قبل گھر والوں کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں محبت میں ناکامی اور گھر والوں س شکایت کے حوالے سے مندرجات لکھے ہوئے ہیں،ایس ایچ او کے مطابق متوفی سول ایوی ایشن میں ملازم تھا۔پولیس واقعہ کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

گلستان جوہرکے بلاک سولہ میں ڈاکو اسلحہ کے زور پر شہریوں سے لوٹ مارکررہا تھا کہ موقع پر موجودشہریوں نےدھرلیا،شہریوں نے ڈاکوکی خوب درگت بناکراسلحہ اور لوٹاہواسامان برآمد کرلیا، جس کے بعد ملزم کو زخمی حالت میں پولس کے حوالے کردیا گیا،پولیس حکام کے مطابق ملزم کے خلاف مزید کارروائی طبی امداد کے بعد کی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top