The news is by your side.

Advertisement

جناح اسپتال میں 2 بچوں کی پیدائش کا دعویٰ، انکوائری مکمل

کراچی: جناح اسپتال نے جڑواں بچوں کی پیدائش کے دعوے کے معاملے کی انکوائری مکمل کر لی، رپورٹ میں تعین ہو گیا کہ غلطی کہاں ہوئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق جناح اسپتال کراچی میں دو بچوں کی پیدائش کے معاملے میں کی جانے والی انکوائری رپورٹ میں دوسرا الٹرا ساؤنڈ کرنے والی ڈاکٹر قصور وار قرار دے دی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسرا الٹرا ساؤنڈ غلط کیا گیا، اور اس کے لیے والد سے پیسے بھی لیے گئے۔

تاہم انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میرپور خاص سے ہونے والے پہلے الٹرا ساؤنڈ میں ایک ہی بچہ ظاہر ہے، جب کہ دوسرے الٹرا ساؤنڈ میں بچوں کا وزن بھی غلط لکھا گیا تھا۔

انکوائری کے مطابق دوسرے الٹرا ساؤنڈ کی رپورٹ میں بچوں کی عمر، ایم آر نمبر، مریض کا نام اور ڈاکٹر کی شناخت واضح نہیں ہے، اس غلط رپورٹ نے اہل خانہ کو ذہنی دباؤ کا شکار بنایا۔

انکوائری کمیٹی نے واضح کیا کہ جناح اسپتال کسی بھی غلط رپورٹ کا ذمہ دار نہیں ہے۔

کیس کی تفصیلات

یاد رہے کہ 16 فروری کو شہر قائد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے ڈلیوری کے بعد ایک نوزائیدہ بچہ مبینہ طور پر غائب کیے جانے کا کیس سامنے آیا تھا، بچے کے والد نے دعویٰ کیا تھا کہ الٹرا ساؤنڈ کے مطابق جڑواں بچوں نے جنم لینا تھا لیکن جڑواں بچوں کی پیدائش کے بعد ایک بچہ کچھ دیر بعد ہی غائب کر دیا گیا۔

تاہم اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز نے والدین کو بتایا کہ صرف ایک ہی بچہ پیدا ہوا تھا جسے آپ کے حوالے کر دیا گیا ہے، مبینہ گمشدگی پر نوزائیدہ بچے کے والد نے متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کرائی جس میں بچے کے والد کا مؤقف تھا کہ کچھ روز قبل کرائے گئے الٹرا ساؤنڈ کی رپورٹ کے مطابق 2 بچوں نے جنم لینا تھا۔

جناح اسپتال ایمرجنسی کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے میڈیا کو بتایا کہ مریضہ کی جانب سے دکھائی گئی رپورٹ میں الٹرا ساؤنڈ کسی پرائیویٹ لیبارٹری سے کرایا گیا تھا، خاتون جب ایمرجنسی میں آئی تو ہمارے ڈاکٹرز نے ایمرجنسی میں الٹرا ساؤنڈ کیا، جس میں ایک بچہ ظاہر ہوا۔

21 فروری کو ایس ایس پی ساؤتھ نے تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی، کورنگی اسپتال کے ڈاکٹرز کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں