چھرا مار کا مبینہ سہولت کار بے گناہ نکلا، رہائی کا حکم knife attack
The news is by your side.

Advertisement

چھرا مار کا مبینہ سہولت کار بے گناہ نکلا، رہائی کا حکم

کراچی: گلستان جوہر میں چھرا مار کے مبینہ سہولت کار شہزاد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چھرا مار ملزم کے سہولت کار کو پیش کیا گیا، تفتیشی افسر نے جج کے سامنے اعتراف کیا کہ پولیس چھرا مار کو پکڑنے میں ناکام ہوگئی۔

گزشتہ سماعت پر تفتیشی افسر نے چھرا مار کے مبینہ سہولت کار شہزاد سے کی جانے والی تحقیقات کے پانچ چالان عدالت میں پیش کیے تھے جن میں پولیس نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کراچی کے علاقے قائد آباد سے حراست میں لیا جانے والا ملزم بے گناہ ہے۔

عدالت نے پولیس چالان کے بعد تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’ملزم کو رہا کرنے کا اختیار صرف عدالت کا ہے ، اس بارے میں عدالت ہی فیصلہ کرے گی‘۔

تفتیشی افسر نے عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ تمام وسائل بروئے کار لانے کے باوجود پولیس اصل مجرم تک پہنچنے میں ناکام رہی، مبینہ ملزم سے کی جانے والی تفتیش پر پولیس نے مؤقف اختیار کیا تھاکہ 20 روز تک کی جانے والی پوچھ گچھ میں کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔

مزید پڑھیں: وسائل خرچ کر کے بھی چھرا مار تک نہیں پہنچ سکے، پولیس کا اعتراف

دریں اثناء انسداد دہشت گردی کی عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ ’ملزم کے قریب پہنچ چکے ، اس ضمن میں ایک سہولت کار کو گرفتار کیا ہے جس سے تفتیش میں اہم معلومات ملنے کی توقع ہے‘۔

آج ہونے والی سماعت پر پولیس نے ملزم شہزاد کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کی رپورٹ پیش کی جس میں مبینہ سہولت کار کو خواتین پر حملے کرنے کے 5 مقدمات میں نامزد کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پانچوں مقدمات اے ٹی سی سے اے کلاس میں بھیجنے کی منظوری دیتے ہوئے گرفتار نوجوان شہزاد کو فوری رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کراچی کے علاقے گلستان جوہر، گلشن اقبال سمیت مختلف علاقوں میں چھرا مار نے حملہ کر کے متعدد خواتین کو زخمی کیا تھا، پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے متعدد بار دعویٰ بھی کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: چھرا مارکی تلاش پولیس کی کمائی کا ذریعہ بن گئی، پچاس سے زائد گرفتاریاں

واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے گزشتہ ماہ سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ چھرا مار واقعات کی روشنی میں 38 مشتبہ افراد کو حراست جبکہ 200 سے زائد موبائل نمبرز کی جانچ پڑتال اور 15 ہزار کالز کو ٹریس کیا گیا علاوہ ازیں 3 نفسیاتی اسپتالوں سے مریضوں کی تفصیلات جمع کی گئیں۔

ڈی آئی جی نے بتایا تھا تیز دھار آلے کے 13 واقعات مماثلث رکھتے ہیں، خواتین کو زخمی کرنے کے الزام میں مبینہ شخص وسیم کو گرفتار کیا گیا جس نے 16 مختلف سمز اور موبائل فون استعمال کیے گئے۔

یہ بھی یاد رہے کہ 16 اکتوبر کو پنجاب کے علاقے ساہیوال میں پولیس نے مبینہ چھری مار شخص کو گرفتار کیا تھا جس کے بارے میں امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ وہ کراچی میں خواتین پر حملے کر کے واپس اپنے علاقے آگیا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سمیت پولیس کی ٹیم نے مذکورہ شخص کو تحویل میں لے تفتیش کی جس میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی تھی اور پھر وسیم نامی نوجوان کو رہا کیا گیا تھا۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں