میٹرو پولیٹن کراچی کا میئر کیا واقعی طاقتور ہوگا؟ -
The news is by your side.

Advertisement

میٹرو پولیٹن کراچی کا میئر کیا واقعی طاقتور ہوگا؟

کراچی : شہرِ قائد کے چھ اضلاع کی 209 یونین کونسلوں اورکمیٹیوں سمیت 1514دیگر نشستوں کے لئے 5441 امیدوار مدمقابل ہیں، 70 لاکھ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

شہر میں تیسرے مرحلے کے لئے209 یونین کونسلز میں انتخاب ہوگا، جو شہری علاقوں پر مشتمل ہیں جبکہ اڑتیس کونسلز دیہی علاقوں کی نمائندگی کریں گی۔ شہر قائد میں پولنگ کے لئے چار ہزار ایک سو اکتالیس پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں۔ جہاں انتخابی سامان کی ترسیل جاری ہے۔ پولنگ والے دن پچیس ہزار پولیس اہلکاروں کے علاوہ پاک فوج اور رینجرز کے نو ہزار چار سو اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔

شہر کے تمام چھ اضلاع میں پولنگ صبح ساڑھے سات بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک بلا وقفہ جاری رہے گی


 

کراچی میں میونسپل نشستوں کی تعداد


 

کراچی کے چھ اضلاع میں کراچی غربی ، کراچی جنوبی، کراچی شرقی ، کورنگی ، کراچی وسطی اور ملیر شامل ہیں۔

کراچی غربی میں یونین کمیٹیز کی تعداد 46 ہے، جس میں اورنگی، سائیٹ، بلدیہ اور کیماڑی شامل ہیں۔

کراچی وسطی میں مجموعی طور پر 51 یونین کمیٹیز ہیں، ضلع وسطی میں کل چار ٹاﺅنز لیاقت آباد، نارتھ ناظم آباد، گلبرگ اور نارتھ کراچی شامل ہیں۔

کراچی جنوبی اور کراچی شرقی میں کل 31 یونین کمیٹیز ہیں، کراچی ساﺅتھ ضلع صدر اور لیاری ٹاون پر مشتمل ہے جبکہ کراچی ایسٹ میں جمشید اور گلشن ٹاﺅنز ہیں۔

کورنگی میں کل 37 یونین کمیٹیز ہیں، اس ضلع میں تین ٹاون لانڈھی، کورنگی اور شاہ فیصل ٹاون شامل ہیں۔

ملیر میں سب سے کم 13 یونین کمیٹیز ہیں،اس ضلع میں تین ٹاﺅن ملیر، بن قاسم اور گڈاپ شامل ہیں۔


 

بلدیاتی انتخابات پارٹی امیدواروں کی تعداد


 

بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے لیے کراچی میں پانچ ہزار چار سو تراسی امیدوار کھڑے ہوئے ہیں، اڑتالیس نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں، کراچی شہر سے ٹوٹل دو سو سنتالیس چیر مین انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں.

کراچی شہر 209 یونین کمیٹیوں پر مشتمل ہے، شہر بھر سے سب سے زیادہ امیدوار متحدہ قومی مومنٹ نے کھڑے کیے ہیں، شہر میں ٹوٹل پولنگ اسٹیشز کی تعداد 4141 ہے، انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن کی تعداد 1791 ہے. حساس پولنگ اسٹیشن کی تعداد 2116 ہے، نارمل پولنگ اسٹیشن صرف 234 ہیں.

جنرل ممبر کی تعداد988 ہے، ٹوٹل ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ چھیاسی ہزار 9 سو ایک ہے، خواتین کی تعداد5لاکھ 28ہزار دو سو پچیاسی جبکہ مردوں کی تعداد 6 لاکھ اٹھانوے ہزار چھ سو سولہ ہے، خواتین کی نشستوں پر امیدواروں کی تعداد 494 ہے.

جماعت اسلامی نے 116 چیر مین جبکہ پی ٹی آئی نے 89 چیر مین کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیا 95 فیصد سیٹوں پر متحدہ قومی مومنٹ نے امیدوار کھڑے کیے ہیں ، دوسرے نمبر پر جماعت اسلامی جبکہ پاکستان تحریک انصاف ، پی پی پی اور ن لیگ نے بالترتیب تیسرے چوتھے اور پانچویں نمبر پر امیدواروں کی تعداد کھڑی کی ہے.

الیکشن کمیشن کے مطابق ضلع جنوبی میں 9، ضلع ملیر میں 6، ضلع غربی میں 13، ضلع وسطی میں 18، ضلع شرقی میں 2 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو گئے ہیں جبکہ ضلع کورنگی میں کوئی امیدوار بلا مقابلہ منتخب نہیں ہوا۔

 

گزشتہ 15 سال میں کراچی میں 2 میئر رہے ہیں. پہلے جماعت اسلامی نے 4 سال 2001 سے 2005 تک کراچی کی بلدیاتی حکومت سنبھالی جبکہ 2005ءمیں متحدہ نے سٹی کاﺅنسل کی 78۱ نشستوں میں سے 102 اپنے نام کی تھیں اور اکیلے ہی میئر شپ حاصل کر لی تھی.

جنرل پرویز مشرف نے 2000ء میں بلدیاتی نظام کے تحت انتخابات کرائے، ان انتخابات کا متحدہ قومی موومنٹ نے بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان شہر کے پہلے ناظم منتخب ہوئے، انہوں نے کافی پل بنوائے، سڑکوں کی حالت درست کروائی مگر نعمت اللہ خان سب سے زیادہ پارکوں کی تعیر کی وجہ سے مشہور ہوئے۔

ایم کیو ایم کے سید مصطفی کمال 2005ء سے 2009ء تک کراچی کے دوسرے ناظم بنے، انہوں نے نہ صرف نعمت اللہ خان کے بچے ہوے کاموں کومکمل کیا بلکہ نوجوان سیدمصطفی کمال نے وہ کمال کر دکھایا جس کا کراچی میں رہنے والا کوئی باشندہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، سگنل فری کاریڈور، پورے کراچی کی سڑکوں کی ازسرنوں تعمیر، غرض یہ کہ اُن کا دور کراچی کی ترقی میں ایک سنہری دور کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔

لوکل گورنمنٹ 2001 کے تحت شہرِ قائد 18 یونین کونسلوں میں تقسیم تھا اور کل 178 یونین کونسلیں ہیں، جن کی فہرست درج ذیل ہے


 

کراچی کے میئر کے اختیارات میں کمی


لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2001میں اتنی ترامیم کردی گئی ہیں، جس کی وجہ سے میئر اور دیگر عوامی نمائندوں کے اختیارات کم ہوگئے ہیں، اس وقت عوامی نمائندوں کے پاس اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں، موجودہ صورتحال میں جو بھی میئر بنے گا وہ تمام معاملات میں وزیر اعلیٰ کا محتاج ہوگا، ہر مسئلے پر اُسے وزیر اعلیٰ کی منظوری لینی ہوگی، اختیارات میں کمی کی وجہ سے میئر کراچی کے پاس جو 34فیصد اختیارات ہوتے تھے وہ بھی اب 14فیصد رہ گئے ہیں.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں