site
stats
سندھ

جرائم پیشہ افراد بچوں کو ڈھال بنانے لگے، تنویرقتل کیس میں اہم پیشرفت

 

کراچی : شہر قائد میں اسٹریٹ کرمنلز کمسن بچوں کو واردات کیلئے استعمال کرنے لگے، موٹر سائیکل سوار ملزمان پولیس سے بچنے کیلئے بچے کو درمیان میں بٹھا لیتے ہیں اورپستول بھی بچے کے پاس رکھواتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پولیس نے گذشتہ سال تیس دسمبر کو اورنگی ٹاؤن میں تنویر نامی نوجوان کے قتل میں اہم پیش رفت حاصل کرلی، 4 رکنی ڈکیت گروہ کے ساتھ پانچواں چھوٹا سہولت کار بھی شامل ہے۔

 اورنگی ٹاؤن میں تنویر نامی نوجوان کو ملزمان نے فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا، پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے اہم پیش رفت حاصل کرلی، سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مرکزی ملزم جب موٹرسائیکل سے اترا تو ایک بچہ بھی دونوں ملزمان کے درمیان میں بیٹھا ہوا تھا۔

پولیس کے مطابق اورنگی ٹاؤن اور اطراف کے علاقوں میں 4 رکنی گروہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں کر رہا ہے، پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لیے ایک بچہ درمیان میں بٹھاتے ہیں، جبکہ ایک موٹرسائیکل پر سوار 2 ملزمان ہمہ وقت بیک اپ پر موجود رہتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کی وجہ سے ملزمان کو کہیں روکا نہیں جاتا، اس کےعلاوہ ملزمان مزید احتیاط کے طور پر پستول بھی بچے کے پاس رکھواتے ہیں۔

پولیس کے مطابق تنویرنامی نوجوان کے قتل میں ملوث ملزمان کی شناخت کرلی گئی ہے اور پولیس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایک سے دو روز کے اندر ملزمان پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top