The news is by your side.

Advertisement

کراچی، دارالصحت اسپتال کے باہر سول سوسائٹی کا احتجاج، اسپتال بند کرنے کا مطالبہ

کراچی: شہر قائد کے دارالصحت اسپتال میں نو ماہ کی بچی کے مفلوج ہونے کے واقعے پر اسپتال کے باہر نشوا کے اہل خانہ اور سول سوسائٹی نے احتجاج کرتے ہوئے اسپتال بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے دارالصحت اسپتال انتظامیہ اور عملے کی غفلت سے ماضی میں متاثر ہونے والے دیگر افراد بھی اسپتال کے باہر احتجاج میں شریک ہوئے اور اسپتال بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔

احتجاجی مظاہرین کی اسپتال انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی، مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’زندہ لائیں، مردہ لے جائیں’ کے الفاظ درج تھے۔

دوسری جانب دارالصحت اسپتال کے خلاف ایک متاثرہ شہری نے انتقال کر جانے والی اپنی بہن کی دستاویزات سوشل میڈیا پر شیئر کردیں، شہری کا کہنا تھا کہ بہن غزالہ کو گزشتہ برس اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ انتقال کرگئیں، بہن کے پتے کا آپریشن تھا اور ایک کے بجائے کئی بار آپریشن کیے گئے۔

متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ اگر میری بہن کو انصاف مل جاتا تو آج یہ بچی متاثر نہ ہوتی، ہم نے اسپتال کے خلاف تھانے میں درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

سندھ حکومت نے لائسنس نہ ہونے پر اسپتال کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا اور انکوائری کمیٹی بنادی، بغیر لائسنس اسپتال کیسے چلتا رہا سندھ حکومت کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔

قبل ازیں لیاقت نیشنل اسپتال کے ترجمان انجم رضوی کا کہنا تھا کہ نشوا کی حالت بتدریج بہتر ہورہی ہے، بچی کو ٹیوب کے ذریعے غذا دینا شروع کردی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ آج صبح بھی بچی کا سی ٹی اسکین اور دیگر ٹیسٹ کیے گئے، نشوا کے دماغ کی سوجن بھی کم ہو رہی ہے۔ سوجن ختم ہونے پر پتہ چلے گا دماغ کا کتنا حصہ متاثر ہوا۔

خیال رہے کہ کراچی کے دارالصحت اسپتال میں نشوا کو ہائی پوٹینسی دوا کی اوور ڈوز دے دی گئی تھی۔ غلط انجکشن کی وجہ سے بچی کی طبیعت بگڑ گئی۔ نشوا ایک ہفتے تک وینٹی لیٹر پر اسپتال میں ہی ایڈمٹ رہی اور ایک ہفتے بعد جب وینٹی لیٹر ہٹایا گیا تو بچی پیرالائزڈ ہوچکی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں