The news is by your side.

Advertisement

کراچی، چوتھی جماعت کے طالب علموں کے معصومانہ سوالات، عالمی خلا بازوں نے جواب دے دیا

کراچی: شہر قائد سے تعلق رکھنے والے چوتھی جماعت کے ذہین طالب علموں کے سوالات نے بین الاقوامی خلابازوں کو جواب دینے پر مجبور کردیا۔

خلا میں دلچسپی رکھنے والے کراچی کے اسکول میں زیر تعلیم چوتھی جماعت (گریڈ فور) کے طالب علموں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے خیالات کے جوابات جرمن خلائی مرکز اور عالمی شہرت یافتہ خلابازوں نے خود دیے۔

دلچسپ معاملے کا آغاز اُس وقت ہوا جب کراچی سے تعلق رکھنے والی ’ایمن فیصل‘ نامی خاتون ٹیچر نے چوتھی جماعت کے طلبہ کے ساتھ بنائی جانے والی تصاویر اور اُن کے سوالات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شیئر کیے۔

ایمن فیصل نے ان سوالات کے ساتھ امریکی خلائی ادارے ناسا کے علاوہ متعدد خلا بازوں اور دیگر خلائی اداروں کو مخاطب کر کے جوابات دینے کی درخواست کی تھی۔

انہوں نے یہ سوالات ایک خط کی صورت میں لکھے اور خلا بازوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم اپنی کتابوں میں خلا سے متعلق آپ کے کارنامے اور ذکر سنتے آئے، اسی وجہ سے آپ سے متاثر بھی ہوئے ہیں‘۔

انہوں نے لکھا کہ ’ہم آپ کے کام کو سراہتے ہیں اور اس موضوع پر آپ کے سامنے وہ سوالات پیش کررہے ہیں جو چوتھی جماعت کے طالب علموں نے کیے‘۔

انہوں نے بتایا کہ دس سالہ طالبہ نے سوال کیا کہ ’خلائی گاڑی میں کون سا ایندھن بھرا جاتا ہے؟‘۔

ایمن فیصل نے لکھا کہ اُن کی دس سالہ طالبہ مناہل نے پوچھا کہ ’ناسا کا حصہ بننے کے لیے کیا کرنا پڑتا ہے‘۔ نوسالہ ہانیہ نے پوچھا کہ ’کیا یہ سچ ہے سیارے مشتری میں ہیروں کی برسات ہوتی ہے؟‘۔

اسی طرح انہوں نے 9 سال کی ماہ رخ نامی طالبہ کا سوال تحریر کیا جس میں اُس نے پوچھا کہ ’جب آپ (خلا باز) خلائی گاڑی میں سفر پر جانے کا آغاز کرتے ہیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟۔‘ عنایہ نے پوچھا کہ ’خلا میں اب تک کی دلچسپ ترین ایجاد کیا ہے؟‘۔ دس سالہ طالب علم ریان نے پوچھا کہ ’کیا آپ کو اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں آپ کی گاڑی خلا میں گم نہ ہوجائے‘۔

ایمن فیصل نے بچوں کی طرف سے یہ جملہ بھی لکھا کہ ہمیں آپ کے جوابات کا شدت سے انتظار رہے گا اور کیا ہم ناسا کا دورہ کرسکتے ہیں؟‘۔

کم عمر طالب علموں کی تصاویر اور ان کے معصومانہ سوالات کو دیکھ کر ٹوئٹر صارفین نے نہ صرف اسے ری ٹویٹ کرنا شروع کر دیا بلکہ خلابازی سے منسلک افراد کو ٹیگ بھی کیا، اسی وجہ سے طالب علموں کے سوالات خلا بازوں تک پہنچے اور پھر انہوں نے جوابات دیے۔

ایمن فیصل نے خلا بازوں کے جوابات آنے کے بعد بچوں کے ردعمل کو بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کیا۔

کلاس میں داخل ہونے کے بعد استانی نے یہ جوابات علیحدہ علیحدہ لفافوں میں بند کر کے اُن بچوں تک پہنچائے جنہوں نے سوالات کیے تھے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر استانی نے لکھا کہ ’جب میں کلاس میں جوابات لے کر داخل ہوئی اور بچوں کو بتایا کہ آپ کے سوالات پر ناسا نے جواب دیا تو پوری کلاس خاموش ہوگئی تھیا ور انہیں یقین نہیں آرہا تھا‘۔

خط پر ایمن نے اپنی لکھائی میں بچوں کے نام درج کیے تو عنابیہ نے کہا کہ ‘یہ ناسا کی طرف سے نہیں بلکہ ٹیچر کی اپنی لکھائی ہے۔’ تاہم جب انھیں اپنا خط کھولنے کا کہا گیا تو ایک مرتبہ پھر خاموشی چھا گئی۔

ایمن نے لکھاکہ جب اُن کی طالبہ ہانیہ نے خط کھولا تو وہ حیران رہ گئی اور کچھ دیر تک جوابی پرچے کو دیر تک گھورتی رہی جبکہ ریان کو ابھی تک یقین نہیں آرہا۔

یہ سوالات جب ایمن فیصل کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے شیئر کیے گئے تو انھوں نے لکھا ان چوتھی جماعت کے طلبا کے آپ کے لیے کچھ سوالات ہیں۔

کینیڈا سے تعلق رکھنے والے خلاباز کرس ہیڈفیلڈ نے ماہ رخ اور ریان نامی بچوں کے سوالات کے جوابات دیے اور  خلا سی لی گئی کراچی کی تصویر بھی بھیجی جس میں خلا باز نے ریان کو مخاطب کر کے کہا کہ ’آپ اس تصویر میں اپنا اسکول بھی تلاش کرسکتے ہیں‘۔

جرمنی کے خلائی مرکز ڈی ایل آر نے دو سائنسدانوں کی مدد سے بچوں کے تمام سوالات کے جوابات دیے ، علاوہ ازیں  خاتون خلا باز کیلینڈرالی نے سوالات کے مفصل جوابات دیے۔

انہوں نے ماہ رخ نامی طالبہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’میں ایک بار رولر کوسٹر میں جان میکبرائیڈ کے ساتھ بیٹھی تو انہوں نے بتایا کہ خلائی گاڑی میں سفر کا آغاز بالکل ایسا ہی ہوتا ہے‘۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے کرونا کی صورت حال تھمنے کے بعد بچوں کو استانی کے ساتھ اپنے دفتر کے دورے کی پیش کش بھی کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں