site
stats
اہم ترین

کراچی: 2 مسافر ٹرینوں میں خوفناک تصادم ، 22 افراد جاں بحق

کراچی : لانڈھی میں فرید ایکسپریس اور زکریا ایکسپریس میں تصادم ہوا، تصادم کے نتیجے میں 22 افراد جاں بحق اور 60 افراد زخمی ہوگئے امدادی کاروائی مکمل کرلی گئی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں لانڈھی کے علاقے قذافی ٹاؤن کے قریب فرید ایکسپریس اور زکریا ایکسپریس آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے باعث 22 افرادجاں بحق جبکہ 60 افراد زخمی ہوئے، زخمی اور جاں بحق ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

train-post-1

پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ زخمیوں اور لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کیا جارہا ہے، جناح اسپتال انتظامیہ نے خون کے عطیات کی اپیل کی ہے۔

حادثے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آسکی جبکہ زخمیوں کو لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بھی ہسپتال منتقل کررہے ہیں، رینجرز ، پولیس اور پاک فوج کے جوان امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں ٹرینیں پنجاب سے کراچی آرہی تھیں جبکہ زکریا ایکسپریس نے فرید ایکسپریس کو پیچھے سے ٹکر ماری، حادثے کے نتیجے میں ٹرین کی تین بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں اور ٹرین کا ملبہ پٹری کے اطراف بکھرگیا جبکہ فرید ایکسپریس کا انجن تباہ ہوا۔

train-post-2

حادثے میں زکریا ایکسپرس کا انجن متاثر ہوا جبکہ فرید ایکسپریس کی 4 سے 5 بوگیاں شدید متاثر ہوئیں، بوگیوں کو ہٹانے کیلئے کرینیں پہنچ گئیں ہیں بوگیوں کو کاٹ کر زخمیوں کو نکالا جارہا ہے۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ 60 زخمیوں کو جناح اسپتال لایا گیا ، جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہیں۔جناح اسپتال کے ایم ایل او کے مطابق جناح اسپتال میں 20 افراد کی لاشیں لائی گئیں تاہم 2 افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوئے۔

عینی شاہدین کے مطابق لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو نکالا گیا، حکومت کی جانب سے کوئی مشینری نہیں بھیجی گئی۔

رسیکیو اہلکار کاکہنا ہے کہ لوگ اپنے گھروں سے اوزار لائے، وقت پر حکومتی نمائندے ایکشن میں آجاتے تو قیمتی جانوں کا ضیاع کم ہوتا۔

ریسکیو آپریشن مکمل ہونے تک کراچی سے اندرون ملک جانے والی ٹرینوں کو آمدورفت روک دی گئی ہے۔

ڈی سی او ریلوے ناصر عزیز کا کہنا ہے کہ پہلی ترجیح ریسکیو آپریشن اور ٹریک کی بحالی ہے، حادثے کی وجوہات کا تعین بعد میں کیا جائے گا، کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، پہلی اطلاع پر عملہ واقعے کی جگہ پر پہنچ گیا اور دو کوچز کو نقصان ہوا، حادثہ کیسے پیش آیا، تحقیقات کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے لانڈھی ٹرین حادثے میں جانی نقصان پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے جناح اسپتال کی انتظامیہ کو ہداہت کردی ہے۔

 ٹرین حادثہ، وزیراعظم نواز شریف اور صدر ممنون حسین کا اظہارِ افسوس

وزیر اعظم نواز شریف اور صدر ممنون حسین نے ٹرین حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔

وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کراچی ٹرین حادثے کی تحقیقات کا حکم

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے 10 روز میں سانحے کی تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے جاں بحق افراد کے ورثا کے لیے 15 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے ساڑھے 3 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔

خواجہ سعد رفیق حادثے کے بعد کراچی آنے کے بجائے پاناما کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ چلے گئے۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حادثہ انسانی غفلت کے باعث پیش آیا۔ پیچھے سے آنے والی ٹرین کے ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور نے سنگلز کو نظر انداز کیا جس کے باعث ہولناک حادثہ ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور تاحال لا پتہ ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے دوپہر تک کراچی پہنچنے کا عندیہ بھی دیا۔

جب تک آپریشن مکمل نہیں ہوتا میں یہی موجود ہو،کمشنر کراچی

کمشنر کراچی اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ جب تک آپریشن مکمل نہیں ہوتا میں یہی موجود ہو، امدادی کاروائی میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی، آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔


مزید پڑھیں : ملتان: مسافر ٹرین مال گاڑی سے ٹکرا گئی، 5 افراد جاں بحق


واضح رہے رواں سال ستمبر میں ملتان میں بچھ ریلوے اسٹیشن پر مسافر ٹرین مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی،  حادثے میں 5 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے، حادثے کا شکار ٹرین پشاور سے کراچی جارہی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top