The news is by your side.

Advertisement

جامعہ کراچی کی طالبہ کی خودکشی کا معاملہ، اہم پیشرفت سامنے آگئی

کراچی: شہرقائد کے پوش علاقے ڈیفنس میں جامعہ کراچی کی طالبہ کی خودکشی سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، پروفیسر کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے نوٹس جاری کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے جامعہ کراچی کے پروفیسر کا بیان لینے کے لیے نوٹس جاری کردیا۔ کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پروفیسر اس وقت اسلام آباد میں ہیں، پروفیسر کے ادارے کو بھی اس حوالے سے خط لکھا گیا ہے۔

سربراہ تحقیقاتی کمیٹی نے یہ بھی بتایا کہ ورثا نے کسی بھی قانونی کارروائی سے انکار کردیا ہے، ورثا کسی کو بھی طالبہ کی خودکشی کا ذمےدار نہیں سمجھتے، ورثا کے مطابق نادیہ اشرف ذہنی دباؤ کا شکار اور دوائیں استعمال کرتی تھیں۔

خیال رہے کہ 9 اگست کو ایک فلیٹ سے نادیہ اشرف نامی لڑکی کی پھندا لگی لاش ملی تھی جو کہ جامعہ کراچی میں قائم ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ریسرچ کی پی ایچ ڈی کی طالبہ تھی۔

جامعہ کراچی کی طالبہ کی‌ خودکشی، تحقیقات کا حکم ، پروفیسرکی طلبی کا نوٹس تیار

نادیہ اشرف بہاولپور میں پیدا ہوئیں ، جہاں سے انہوں نے اپنی ابتدائی، کالج اور بیچلرز کی تعلیم حاصل کی، 2005 میں نادیہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کراچی آئیں، جس کے بعد ان کا داخلہ ڈاکٹر پنجوانی تحقیقاتی سینٹر میں ایم فل پلس پی ایچ ڈی پروگرام میں ہوا جس کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔

بعد ازاں نادیہ اشرف سب سے پہلے ڈاکٹر امین سوریا کی زیرِ نگرانی2007 میں ایم فل پی ایچ ڈی میں انرول ہوئیں تاہم ڈاکٹر امین سوریا کے جانے کے بعد وہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کے زیرِ نگرانی اپنی پی ایچ ڈی مکمل کررہی تھیں۔ وہ کراچی کی ایک نجی جامعہ بیریٹ ہڈسن یونیورسٹی میں لیکچرر بھی رہ چکی تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں