The news is by your side.

Advertisement

سوشل میڈیا: اہلیانِ کراچی تین دن پھلوں کا بائیکاٹ کریں گے

کراچی: رمضان المبارک میں پھلوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے خلاف اہلیانِ شہرِ قائد نے تین دن تک پھلوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا ہے‘ بائیکاٹ کے لیے سوشل میڈیا پر مہم جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹس واٹس ایپ اور فیس بک پر بہت تیزی سے یہ پیغام گردش کررہا ہے کہ پھلوں کا بائیکاٹ کیا جائے اورلوگ اس پر مثبت ردعمل دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔

رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اور اس مہینے کی آمد پر دنیا بھر کے مسلم ممالک اور کئی غیر مسلم ممالک میں عوام کو ریلیف فراہم کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ہرسال اشیائے خوردونوش سمیت ہر شے کی قیمت آسمان سے باتیں کرتی دکھائی دیتی ہے۔

لیکن اس بار کراچی میں پھل فروش تاجران اور ریٹیلرنے انتہا کردی ہے‘ پھلوں کی قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھائی گئی ہیں اور عوام کو رمضان کی برکتوں سے محروم رکھنے کی سازش کی جارہی ہے۔

سوشل میڈیا پرگردش کرتا پیغام


اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک پیغام انتہائی تیزی سے گردش کررہا ہے جس میں عوام سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ’’ صرف تین دن افطاری سے قبل سالن تیار کریں۔ اذان ہوتے ہی کھجور کے ساتھ روزہ افطار کریں اور پھر تھوڑا سا کھانا کھا لیں۔ فروٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہم لوگ تین دن تک فروٹ کا بائیکاٹ کرلیں اور فروٹ گوداموں میں سڑنا شروع ہوجائے تو یقین کریں یہ مکار اور منافع خور تاجر اس کو اپنی اصل قیمت سے بھی سستا فروخت کرنے پر راضی ہوں گے‘‘۔

فروٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اپنی مدد آپ کے تحت کم کرنے کے لیے مہم کا اگلا اور حتمی قدم یہ ہے کہ جمعہ ہفتہ اور اتوار کو ملک بھر میں فروٹ کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میرے بائیکاٹ کرنے سے کیا ہوگا تو آپ احساس کمتری کا شکار ہیں۔ آپ کو بطور صارف اپنی اہمیت کا اندازہ نہیں۔

اگر آپ گھر کے سربراہ ہیں تو ہمارا مخاطب آپ ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ جمعہ ہفتہ اور اتوار کو فروٹ نہ خریدیں۔ اگر آپ گھر کے چھوٹے ہیں تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ یہ پیغام گھر کے سربراہ تک پہنچائیں۔

یہ پیغام کاپی کرکے اپنی وال پر پیسٹ کریں۔ واٹس ایپ اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اس کو پھیلائیں۔ ایس ایم ایس لکھ کر اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس مہم میں شریک کریں۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں