The news is by your side.

Advertisement

آؤ خوشیاں بانٹیں ۔۔۔ شاعر کاشف شمیم صدیقی

کیا کبھی اُن معصوم چہروں کو،

دیکھا ہے تم نے ،

رنگ ہیں ۔۔۔ نہ ہی ہنسی ،

نہ آنکھوں میں چمک ہے،

نہ دلوں میں بسی کوئی خوشی

جسم خالی ہیں اُن کے "قوّتوں ” سے ،

ناتوانیوں کے طوفاں میں ،

ہے ناﺅ زندگی کی پھنسی

اور تمہیں تو معلوم ہی ہے نہ،

کہ کچھ خواب ہیں ان بچوں کے بھی ،

کچھ سپنے پورے ہونے ہیں ،

ابھی اک زیست اُنہیں جینی ہے ،

بن کِھلے پھول  کِھلنے ہیں

لیکن پھر جب۔،،

چھوٹی ، چھوٹی قبروں میں ،

یہ ننھّے پھول سماتے ہیں ،

ہر دل پر تیر سے چلتے ہیں،

ہر آنکھ میں آنسو آتے ہیں

اچھا خیر۔۔۔،،

 اب چھوڑو پرُانی باتوں کو

چلو آﺅ کچھ ایسا کرتے ہیں

خوشیاں بکھیر دیتے ہیں

آنسو چُرا لیتے ہیں

ننّھے مُنے پھولوں کو

مرُجھانے سے بچا لیتے ہیں

بچوں کو بتا دیتے ہیں

کہ ہاتھوں میں تھامے ہاتھ

ہم سب اُن کے ساتھ ہیں

ایک زندگی کو جو بچا لیا ہم نے

سمجھو ایک فرض نبھا دیا ہم نے

 اُداس آنکھوں میں بسے سپنوں کو

ہم مل کر سچ کر دیتے ہیں

چلو آﺅ کچھ ایسا کرتے ہیں

چلو آﺅ۔۔ ،

کچھ ایسا کرتے ہیں !

 

شاعر امن

کاشف شمیم صدیقی

Comments

یہ بھی پڑھیں