The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر : عالمی برادری بھارت سے ڈیجیٹل عصبیت کی جواب طلبی کرے

سری نگر : مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے مواصلاتی بلیک آؤٹ ایک اجتماعی سزاہے عالمی برادری بھےاعرت سے اس ڈیجیٹل عصبیت کا جواب طلب کرے۔

تفصیلات کے مطابق جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کی طرف سے 125 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں اگست 2019ء سے جموں و کشمیر میں جاری ڈیجیٹل پابندیوں کے سبب نقصانات، لاگت اور اس کے سبب ہونے والے نقصانات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ بھارت نے پانچ اگست 2019ء کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا تھا اور ساتھ ہی اس خطےکا باقی دنیا کے ساتھ مواصلاتی رابطہ بھی منقطع کر دیا تھا۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کشمیریوں کے لیے شدید غم وغصے کا سبب بنا اور اسی سبب بھارتی حکومت نے مظاہروں اور ردعمل سے بچنے کے لیے سخت سکیورٹی لاک ڈاؤن کرتے ہوئے اس خطے کا باقی دنیا کے ساتھ مواصلاتی رابطہ بھی مکمل طور پر منقطع کر دیا۔ ان اقدامات سے لاکھوں کشمیری نہ صرف بے روزگار ہو گئے بلکہ تعلیم اور صحت کا نظام بھی مفلوج ہو کر رہ گیا۔

کشمیر انٹرنیٹ سِیج کے نام سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹیل حقوق کا انکار، اس خطے کے عوام کے لیے ایک منظم امتیازی سلوک، ڈیجیٹل جبر اور مشترکہ سزا کے برابر ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں اگست 2019 سے اب تک 5.3 بلین ڈالرز کے برابر مالی نقصان ہو چکا ہے جبکہ قریب پانچ لاکھ افراد کے بے روزگار ہوئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں