مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم 119ویں روز بھی جاری -
The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم 119ویں روز بھی جاری

سری نگر : مقبوضہ کشمیر میں کشیدگی کو ایک سوانیس روز ہوگئے۔ کشمیری عوام کو اس بار بھی نمازجمعہ کی ادائیگی سے محروم رکھا گیا، بھارت کے غاصبانہ قبضے کیخلاف مقبوضہ وادی میں آزادی مارچ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کشمیر کی مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت کا 119واں روز جاری ہے کشمیری عوام اب تک نمازجمعہ کی ادائیگی سے بھی محروم ہیں، بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج دس نومبرتک بڑھا دیا گیا۔

بھارت کی ریاستی دہشت گردی نے کشمیر کی جنت نظیروادی کو ویرانے میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ وادی میں تعلیمی ادارے بند، کاروباری سرگرمیاں معطل، دکانوں پرتالے اور سڑکوں پربھارتی فورسز کا پہرہ ہے۔

کشمیری اس بار بھی نماز جمعہ ادانہ کرسکے۔ یہ سترہ واں جمعہ ہے کہ کشمیری نماز جمعہ سے محروم رہے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے کشمیریوں کواحتجاج سے روکنے کے لئے غیراعلانیہ کرفیو لگا رکھا ہے۔

گھرگھرچھاپے مار کر نوجوانوں کو گرفتارکیا جارہا ہے۔ اس کے با وجود کشمیریوں نے جمعے کو سرینگرمیں آزادی مارچ کیا اوربھارت مخالف مظاہرے کیے۔

حریت کانفرنس کی اپیل پرمقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال رہی۔ حریت کانفرنس نے بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج دس نومبرتک بڑھا دیا گیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کے مشیرطارق فاطمی نے دفترخارجہ میں اقوام متحدہ کے پانچ مستقل رکن ممالک سے مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کرانے کا مطالبہ کیا۔

روس، امریکا، فرانس، چین اور برطانیہ کے سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں