بھارت، کشمیری طلباء و طالبات کی یونیورسٹی چھوڑنے کی دھمکی kashmiri students
The news is by your side.

Advertisement

بھارت، کشمیری طلباء و طالبات کی یونیورسٹی چھوڑنے کی دھمکی

نئی دہلی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم 1200 طلباء و طالبات نے ایک ساتھ یونیورسٹی چھوڑنے کی دھمکی دے دی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم 1200 طلباء و طالبات نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے تین ساتھیوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ واپس نہیں لیا گیا اور انہیں مقامی پولیس کی جانب سے ہراساں کرنے کا سلسلہ نہیں رکا تو وہ سب ایک ساتھ یونیورسٹی چھوڑ کر کشمیر لوٹ جائیں گے۔

یونیورسٹی حکام کی جانب سے دو کشمیری طلباء کو یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم منان بشیروانی کی غائبانہ جنازہ پڑھنے کی کوشش کرنے پر معطل کیا تھا، علاوہ ازیں سات طلباء کے نام اظہار وجوہ نوٹس جاری کیے گئے۔

بعدازاں مقامی پولیس نے تین طلباء کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرلیا، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے اندر بھارت مخالف نعرے لگائے تھے۔

علی گڑھ کے پولیس افسر کے مطابق تین طلباء کے خلاف بھارت مخالف نعرے لگانے پر مقامی پولیس تھانے میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔

کشیری طالب علموں کے ترجمان سجاد سبحان نے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری طلبا و طالبات کو مختلف بہانے بنا کر مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے اور جھوٹے مقدمات میں بھی پھنسایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن طالب علموں کے نام اظہار وجوہ نوٹس جاری کیے گیے ہیں ان میں سے پانچ پہلے سے یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوچکے ہیں جو یہ ثابت کرتا ہے کہ طالب علموں کے خلاف کارروائی یونیورسٹی کے ایک ہال میں منان وانی کی شہادت کے بعد منعقد کیے گئے ایک جلسے کے حوالے سے تحقیقات کیے بغیر کی گئی۔

واضح رہے کہ 11 اکتوبر کو منان وانی اور ان کے دوست کو بھارتی فورسز نے کشمیر کے سرحدی ضلع کپواڑہ میں شہید کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں