The news is by your side.

Advertisement

قازقستان میں 20سال بعد سزائے موت کا قانون ختم

قازقستان حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی توثیق کرتے ہوئے20سال بعد سزائے موت کے قانون کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، قازقستان کے صدر نے پارلیمانی توثیق پر دستخط کردیے جو سزائے موت کے خاتمے کی پابند ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق قازقستان پریس سروس (کے پی ایس) کے مطابق قازقستان کے صدر کسیم مارٹ ٹوکائیف نے سول اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی عہد نامے کے پروٹوکول کی توثیق کرنے والے ایک قانون پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد بین الاقوامی عہد نامے کے پروٹوکول میں سزائے موت کو ختم کرنے کے عمل کا باضابطہ آغاز کردیا کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر کے آخر میں دوسرے اختیاری پروٹوکول پر اقوام متحدہ میں قازقستان کے مستقل مندوب کییرت عمروف نے دستخط کیے تھے۔

اس دستخط کے بعد یہ دستاویز قازقستان کی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اور اس کی 29 دسمبر کو منظوری دی گئی جس کو آج سے نافذالعمل قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سال2003سے قازقستان میں پھانسیوں کے عمل کو موقوف کردیا گیا تھا لیکن عدالتوں نے دہشت گردی کی کارروائیاں سمجھے جانے والے جرائم سمیت غیر معمولی حالات میں مجرموں کو موت کی سزا سنائی تھی۔

قازقستان کے سب سے بڑے شہر الماتی میں سال 2016 میں ہنگامے کے دوران آٹھ پولیس اہلکار اور دو عام شہریوں کو ہلاک کرنے والا تنہا بندوق بردار رسولان کولیک بائیف بھی ان مجرموں میں شامل تھا جن پر عائد کیا گیا تھا کہ اگر اس عہدنامے کو ختم کیا گیا تو اسے سزائے موت سنائی جائے گی مگر اب کلیک بائیف اس کی بجائے جیل میں عمر قید کی سزا بھگتے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں