The news is by your side.

Advertisement

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے قازقستان کی حکومت گرا دی، عوام کا غصہ کم نہ ہوا

نور سلطان: ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے قازقستان کی حکومت گرا دی ہے، لیکن عوام کا غصہ پھر بھی کم نہ ہوا اور احتجاج بدستور جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق قازقستان حکومت کا استعفیٰ بھی احتجاج پر قابو پانے میں ناکام رہا، بدھ کے روز مظاہرین نے قازقستان کے سب سے بڑے شہر میں عوامی عمارتوں پر دھاوا بول دیا کیوں کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی غصے کے جواب میں حکومت کے مستعفی ہونے کے بعد سیکیورٹی فورسز کنٹرول نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں۔

قازقستان میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقائیف نے آج بدھ کے روز اپنی حکومت کا استعفی منظور کر لیا۔

ایک بلاگر کے انسٹاگرام لائیو اسٹریم میں الماتی شہر کے میئر کے دفتر میں آگ بھڑکتی ہوئی دکھائی دی، جس کے قریب سے گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں قریبی پراسیکیوٹر کے دفتر کو بھی جلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے سیکیورٹی فورسز کے گھیرے کو توڑ دیا تھا، تاہم بعد میں فورسز نے اسٹن گرنیڈز بھی فائر کیے جن کے دھماکوں کی آواز پورے شہر کے مرکز میں سنی گئی۔

الماتی کے مرکزی چوک سے سینکڑوں مظاہرین کو باہر نکالنے کے لیے پولیس نے گزشتہ روز آنسو گیس اور اسٹن گرنیڈز کا استعمال کیا تھا، اور آج صدر قاسم جومارت توقائیف نے حکومت کا استعفیٰ قبول کر لیا۔

صدارتی دفتر سے جاری بیان کے مطابق توقائیف نے علی خان اسمائلوف کو عبوری وزیر اعظم نامزد کر دیا ہے، قبل ازیں ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے مظاہروں کے بعد بدھ کے روز توقائیف نے 2 ہفتے کی ملک گیر ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

منگل کے روز احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب حکام نے رقیق پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت مقرر کرنے کی حد ختم کر دی، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں زبردست اضافہ سامنے آیا، اپنی حکومت کے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے توقائیف نے کہا کہ 180 دن کی مدت کے لیے قیمتوں کی حد مقرر کرنے کی خاطر ایک عارضی قانون دوبارہ لایا جائے گا۔

سرکاری حکم نامے کے مطابق ایمرجنسی کے دوران رات 11 بجے سے صبح 7 بجے تک کرفیو بھی نافذ رہے گا، نقل و حمل کو محدود کر دیا جائے گا اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد رہے گی۔

مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مانغیستاو صوبے کے جانااوزن شہر میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، یہ احتجاجی مظاہرے مانغیستاو کے دیگر حصوں اور مغربی قازقستان کے دیگر شہروں تک پھیل گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں