امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ امریکا اوربرطانیہ کے درمیان جلد ایک عظیم تجارتی معاہدہ ہوگا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی برطانوی وزیراعظم سرکئیراسٹارمر سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات میں ہوئی جس میں یوکرین جنگ، نیٹو کے مستقبل، تجارت اور ٹیرف سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔
وائٹ ہاؤس میں ہوئی ملاقات میں صدرٹرمپ نے سر کئیراسٹارمر کو اسپیشل شخص قرار دیا جبکہ سرکئیراسٹارمرنے بادشاہ چارلس کی جانب سے صدر ٹرمپ کو سرکاری سطح پر دورہ برطانیہ کادعوت نامہ بھی دیا۔
اس موقعے پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے اسٹیٹ وزٹ کا دعوت نامہ قبول کرلیا ہے، پہلا عالمی رہنما ہوں جو برطانیہ کا اسٹیٹ وزٹ دوسری مرتبہ کرنے جارہا ہوں، کنگ چارلس کا دعوت نامہ قبول کرتا ہوں۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کا جلد خاتمہ چاہتے ہیں ، برطانوی وزیر اعظم کو یوکرین جنگ ختم کرنے کی کوششوں سے آگاہ کیا ہے، جنگ کے دوران بےگناہ لوگوں کی جان جارہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ زیلنسکی سے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہورہی ہے، یوکرین کے ساتھ معدنیات نکالنے کے معاملے پر معاہدہ ہونے جارہا ہے، یہ معاہدہ یوکرین اور امریکا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرےگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امن کیلئے بات چیت کرنا پڑتی ہے، ہزاروں یوکرینی اور روسی روزانہ کی بنیاد پر مارے جارہے ہیں، ہم اس کو روکیں گے اور یقینی بنائیں گے کہ اس طرح کی جنگ کبھی کہیں نہ شروع ہو۔
ملاقات میں امریکی صدر نے کہا کہ برطانیہ کیساتھ مل کر ترقی اور خوشحالی کے نئے راستے تلاش کریں گے، دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ امریکا کا ایک سچادوست ہے۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہیں، ان خطرات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے، صدر ٹرمپ کی دنیا میں امن کیلئے آپ کی کوششوں کو سراہتا ہوں، تاریخ ہمیشہ امن قائم کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے۔
کیئراسٹارمر کا کہنا تھا کہ برطانیہ امن کے معاہدے کیلئے اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلاتا ہے، برطانیہ اس سال یوکرین کو مزید فوجی امداد فراہم کرےگا، برطانیہ اپنی دفاعی بجٹ میں تاریخی اضافہ کرنے جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکااور برطانیہ کی عوام اپنی زندگیاں بہتر ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، صدر ٹرمپ نے کہا کہ تجارتی طور پر کئی ممالک نے امریکا کا فائدہ اٹھایا ہے، اب ان تمام ممالک پر ٹیرف عائد کئے جائیں گے جو امریکا سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کیساتھ امن قائم کرنے کیلئے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے، یورپ اور برطانیہ کو سیکیورٹی کیلئے مزید اقدامات کرنا ہوں گے، برطانیہ اور امریکا کو ایک دوسرے کی حمایت حاصل ہے۔
پریس کانفرنس میں امریکی صدر سے صحافی نے برطانیہ پر امریکا کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے پر سوال کیا، صدر ٹرمپ کے جواب پر برطانوی صحافیوں کے قہقہے نکل گئے۔
صدر ٹرمپ نے کہاکہ میرے خیال سے برطانیہ کیساتھ ایک بہتر تجارتی ڈیل ہوسکتی ہے واضح رہے کہ امریکا نے یورپ سمیت برطانیہ پرا سٹیل اور المونیم پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔