The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس: گمراہ کن معلومات پھیلانے پر ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ

نئی دہلی: بھارتی ریاست کیرالہ میں کرونا وائرس کے بارے میں غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلانے پر ایک ڈاکٹر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروا دی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ڈاکٹر شینو شمیالن مقامی نجی اسپتال میں کام کرتی ہیں اور ان کے خلاف ڈسٹرکٹ میڈیکل افسر نے شکایت درج کروائی ہے۔

افسر نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ ڈاکٹر شینو نے ایک غیر ملکی مریض کے بارے میں گمراہ کن اطلاع دی کہ اس میں کرونا وائرس کی علامات موجود ہیں۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شینو نے چند روز قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک پوسٹ لکھی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ انہوں نے کرونا وائرس کے ایک مشتبہ مریض کے بارے میں انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا جس کے بعد انہیں نوکری سے برخواست کردیا گیا۔

اپنی پوسٹ میں ڈاکٹر شینو کا کہنا تھا کہ مذکورہ مریض ماسک پہنے یا دیگر احتیاطی اقدامات کیے بغیر وہاں آیا تھا اور بعد ازاں وہ قطر کے لیے پرواز کر گیا۔

ان کے مطابق انہوں نے اسپتال انتظامیہ، محکمہ صحت کے حکام اور پولیس کو اس بارے میں اطلاع دی، تاہم اسپتال انتظامیہ نے اس خوف میں، کہ اس اطلاع کا دیگر مریضوں پر برا اثر ہوگا، ڈاکٹر کو ہی نوکری سے نکال دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ ڈاکٹر پر خوف و ہراس پھیلانے کے جرم میں انڈین پینل کوڈ کی شق نمبر 505 عائد کردی گئی ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر شینو کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بات پر تاحال قائم ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ مذکورہ شخص کے قطر جانے سے پہلے اس کے نمونے لیے جانے چاہئیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں اب تک 62 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں سے زیادہ تر ریاست کیرالہ میں ہیں۔

حال ہی میں 3 افراد کا ایک خاندان جو اٹلی سے لوٹا تھا، ایئرپورٹ پر اسکریننگ سے بچ کر نکل گیا اور ان 3 افراد نے اپنے رشتہ داروں اور قریبی افراد سمیت مزید 7 افراد کو اس وائرس میں مبتلا کردیا۔

حکام کی جانب سے ان کے سفر کی معلومات حاصل ہونے پر ان سے رابطہ کیا گیا اور تینوں میاں بیوی اور بیٹے کو زبردستی قرنطنیہ میں رکھا گیا، ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد ان کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی چیک کیا گیا جس کے بعد مزید 7 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں