The news is by your side.

Advertisement

خدیجہ حملہ کیس: مجرم شاہ حسین کومجموعی 23 سال قید کی سزا

لاہور: لاء کالج کی طالبہ خدیجہ صدیقی پرہونے والے قاتلانہ حملے کےکیس میں عدالت نےمجرم شاہ حسین کو23 سال مجموعی قید کی سزا سنادی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی مقامی عدالت نے لاء کالج کی طالبہ خدیجہ صدیقی پرہونے والے حملے کے کیس میں مجرم شاہ حسین کو مجموعی 23 سال قید اور3 لاکھ 34 ہزارسولہ روپےجرمانے کی سزا سنا دی ۔

عدالتی حکم کے مطابق جب تک مجرم خدیجہ صدیقی کو جرمانہ ادا نہیں کرتا اس وقت تک وہ رہا نہیں ہوسکے گا۔

پراسکیوشن کی جانب سےملزم شاہ حسین کے خلاف بارہ گواہان پیش کیے گئے جن میں آٹھ پولیس اہلکار، لیڈی ڈاکٹر خدیخہ صدیقی کی چھوٹی بہن صوفیہ صدیقی اور ڈرائیور شامل تھا۔

پولیس نے ملزم سے واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور چھری بھی برامد کی جبکہ فرانزک رپورٹ میں بھی ملزم کے خلاف جرم ثابت ہوا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ مجرم قانون کا ایک نوجوان طالب علم ہے جس کے سامنے ایک شاندار مستقبل ہے مگر خدیجہ صدیقی بھی ایک نوجوان طالبہ ہے جس پر گزرنے والے کرب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مجرم نے خدیجہ صدیقی کو قتل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوٹی مگر وہ معجزانہ طورپر بچ گئی ۔ مقدمے کے حالات مد نظر مجرم سے کوئی رعایت نہیں برتی جاسکتی۔

عدالت کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئےخدیجہ صدیقی نے کہا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، یہ کیس میرے ایمان کا امتحان تھا۔

انہوں نے کہا کہ کیس کے دوران میری کردار کشی کی گئی لیکن جس اللہ نے زندگی دی اس نے عزت بھی دی ہے،جن لوگوں نے ساتھ دیا ان کی شکر گزار ہوں۔

خدیجہ صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ اس کی کسی کے ساتھ دشمنی نہیں ہے بلکہ اس نے 23 خنجروں کا حساب لینا تھا وہ لے لیا ہے۔



خدیجہ حملہ کیس، روزانہ سماعت ہو، ایک ماہ میں فیصلہ آئے، لاہورہائی کورٹ


یاد رہے کہ رواں سال 24 مئی کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو خدیجہ پرحملےکا ٹرائل ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

واضح رہےکہ گزشتہ سال 3 مئی کو لاء کالج کی طالبہ خدیجہ صدیقی کو ان کے ہم جماعت شاہ حسین نےاُس وقت حملے کا نشانہ بنایا تھا جب وہ اپنی چھوٹی بہن صوفیہ کو اسکول سے گھر واپس لانے کے لیے گئی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں