The news is by your side.

Advertisement

خدیجہ حملہ کیس کے مجرم کی رہائی، متاثرہ خاتون نے بڑا مطالبہ کردیا

کراچی : خدیحہ حملہ کیس کے مجرم شاہ حسین کی سزا میں چھوٹ کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے سپریم کورٹ نے مجرم شاہ حسین کو 5سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن مجرم کو ڈیڑھ سال قبل رہائی مل گئی۔

اس حوالے سے ایڈووکیٹ خدیجہ صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ بات میرے لیے بھی حیرت کا باعث تھی کیونکہ مجھ سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا گیا لیکن ہمارے قانون میں اس بات کی گنجائش ہے کہ مجرم کو اس کی چال چلن پر قید میں چھوٹ دی جاتی ہے۔

 اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ خدیجہ صدیقی نے کہا کہ مجرم کو اس کی سزا میں اتنی بڑی رعایت کس بنیاد پر ملی، اس بارے میں مجھے کسی نے کچھ نہیں بتایا تھا اور اسے رہا کردیا گیا،  قانون میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا اس بات کی گارنٹی ہے کہ مجرم رہائی کے بعد ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا اور اس کی سزا کا مقصد پور اہوگیا کای کسی بورڈ نے نفسیاتی حوالے سے اسے کلیئر قرار دیا ہے؟

ایڈووکیٹ خدیجہ صدیقی نے بتایا کہ میں نے اپنی سکیورٹی کیلئے درخواست کی ہے اور متعلقہ پولیس حکام سے ملاقات کی ہے انہوں نے مجھے ہر طرح سے تحفظ کا یقین دلایا ہے۔

واضح رہے کہ مجرم کی رہائی سے متعلق پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان نے اپنی وضاحت میں کہا تھا کہ خدیجہ حملہ کیس کے مجرم شاہ حسین کو صدر، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے سزا میں کوئی معافی نہیں ملی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیل رولز کے مطابق شاہ حسین کو 5 سال کے دوران سزا میں 17 ماہ 23 دن کی چھوٹ ملی۔ صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا کہ شاہ حسین کو یہ چھوٹ جیل میں مشقت کرنے، اچھے چال چلن، جیل میں بی اے اور قرآن پاک ترجمے کے ساتھ ختم کرنے پر دی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں