The news is by your side.

Advertisement

علّامہ مشرقی اور بیلچہ بردار

1931ء میں علامہ عنایت اللہ مشرقی نے تحریک خاکسار کی بنیاد ڈالی۔ انھوں نے اسلامی نشاۃ ثانیہ کے لیے جرمنی کی فاشزم کو اپنے سامنے بطور نمونہ رکھا، خاکی رنگ کا لباس، داہنے بازو پر اخوت کا بیج اور ہاتھ میں بیلچہ ان کا شعار قرار پایا۔

خاکسار فارسی الفاظ "خاک” اور "سر” کا مرکب ہے جس کا مطلب ناچیز، ہیچ اور حقیر کے ہیں۔ مراد اس کا یہ تھا کہ یہ تحریک اور اس کے کارکنان انسانیت کے مخلص اور بے لوث خادم ہیں اور قوت و سطوت کا استعمال انسانوں کی بھلائی کے لیے کیا جائے گا۔

اس تحریک کے چند بنیادی اصول، فرائض و قوانین بھی مرتب کیے گئے تھے۔
اس تحریک کے خاص ہمنوا اور کارکن سر سید، رضا علی، ڈاکٹر سر ضیاء الدین، آغا غضنفر علی شاہ، سکندر حیات اور دیگر اہم اور نام ور لوگ تھے۔

خاکسار تحریک مسلمانوں تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ممبران یہودی، عیسائی، برہمو سماجی اور وہ تمام لوگ بن سکتے تھے جو خدا اور مذہب پر یقین رکھتے تھے۔ یہ اتحاد اور وحدتِ انسانیت کے داعی تھے۔ اس تحریک کا خاص نشان نظم و ضبط، فوجی تنظیم اور محنت و مشقت تھا، بلا امتیازِ مذہب و ملّت تمام فرقوں کے یہ خادم تھے۔ یہ اراکین اتحاد اور وحدت انسانیت کے داعی تھے۔ عروج کے زمانے میں اس کے کارکنوں کی تعداد تقریباً پندرہ لاکھ تھی لیکن بعد میں یہ تعداد بہت گھٹ گئی تھی۔

اس تحریک کی ناکامی کی مختلف وجوہ اور اسباب بتائے جاتے ہیں جب کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اس تحریک نے نوجوانوں کو تعمیری اور بامقصد زندگی اپنانے پر آمادہ کیا تھا۔ اس تحریک میں خواتین نے بھی شمولیت اختیار کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں