The news is by your side.

Advertisement

سندھ حکومت عوامی مسائل کو اسمبلی میں اٹھنے نہیں دیتی، خالد مقبول صدیقی

حیدرآباد : ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سندھ میں اس وقت مصنوعی اکثریتی حکومت ہے، اکثریت کی بنیاد پرعوامی مسائل کو سندھ اسمبلی میں اٹھنے نہیں دیا جاتا۔

حیدرآباد پریس کلب میں اراکین اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی لولی، لنگڑی جمہوریت کو بائے پاس کرنا نہیں چاہتی۔

نیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک بھر میں کرپشن روکنے کیلئے انصاف اور شفافیت کے ساتھ کام کرے، اگر نیب جانبداری سے کام کررہی ہے تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے، اگر حکمراں ذاتی مقاصد کیلئے نیب کے قوانین میں ترامیم کرنا چاہتے ہیں تو اس کی مخالفت ہونی چاہئے اور اگر بہتری کیلئے کررہے ہیں تو حمایت ہونی چاہئے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سندھ کو ملنے والے 800ارب روپے میں سے 25ارب روپے بھی سندھ کے شہروں میں نہیں لگے، ان پیسوں سے دبئی کی رئیل اسٹیٹ تو اوپر گئی ہوگی لیکن سندھ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے حیدرآباد سٹی کے نام پر 20ہزار 800ایکڑ زمین روبی کون بلڈر ز کو منتقل کردی ہے، یہ بلڈر کون ہے اس کی تحقیقات کی جائے۔

اس معاملے میں حکومت سندھ نے ایچ ڈی اے کو آلہ کار کے طور پر استعمال کیاہے، انہوں نے کہا کہ حیرت ہے جس زمین کی ملکیت خود ایچ ڈی اے کے پاس نہیں اس کا معاہدہ کس قانون کے تحت کیا گیا ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں