The news is by your side.

خاشقجی قتل کیس، ٹرمپ نے انصاف پر تجارت کو ترجیح دی، ترک وزیر خارجہ

انقرہ : ترک وزیر خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’انسانی جان مقدم ہونی چاہیے لیکن ٹرمپ نے انصاف پر تجارتی تعلقات کو ترجیح دی ہے‘۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کے دارالحکومت استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں دی واشنگٹن پوسٹ کے کالم نویس اور معروف صحافی جمال خاشقجی قتل سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے خاشقجی قتل کیس میں کبوتر کی مانند اپنی آنکھیں بند کرلی ہے۔

ترک وزیر خارجہ میولت کوواسگو کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی قتل کیس سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ بیانات واضح کرتے ہیں کہ ٹرمپ صحافی کے قتل کی تفتیش کے معاملے پر آنکھیں بند کرلیں گے۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کو انسانی جان کو اہمیت دینی چاہیے تھی لیکن انہوں نے انصاف پر سعودی عرب سے تجارتی تعلقات کو ترجیح دی۔

میولت کوواسگو کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے واضحات کردی کہ ٹرمپ کے لیے پیسہ ہی سب کچھ ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی سے متعلق سی آئی اے کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صحافی کے قتل کا حکم نہیں دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے خبر ملی ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی نے محمد بن سلمان سے متعلق کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا ہے تاہم مجھے نہیں معلوم اگر کوئی محمد بن سلمان کو ذمہ دار سمجھتا ہے۔

یاد رہے کہ 2 اکتوبر میں سعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول میں سعودی سفارت خانے گئے تھے جہاں انہیں قتل کردیا گیا تھا۔

بیس اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سفارت خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں