The news is by your side.

Advertisement

یتیم شہزادے کی عید

اسی 1332 ہجری (1913 عیسوی) کی عیدُالفطر کا ذکر ہے۔ دہلی میں 29 کا چاند نظر نہ آیا۔ درزی خوش تھے کہ ان کو ایک دن کام کرنے کی مہلت مل گئی۔ جوتے والوں کو بھی خوشی تھی کہ ایک روز کی بکری بڑھ گئی، مگر مسلمانوں کے ایک غریب محلہ میں تیموریہ خاندان کا ایک گھرانا اس دن بہت غمگین تھا۔

یہ لوگ عصر سے پہلے اپنے گھر کے وارث میرزا دلدار شاہ کو دفن کر کے آئے تھے۔ دلدار شاہ دس دن سے بیمار تھے۔ ان کو پانچ روپیہ ماہوار پنشن ملتی تھی۔ گھر میں ان کی بیوی اور یہ خود کناری بُنتے تھے جس میں ان کو اتنی معقول آمدنی تھے کہ خوب آرام سے بسر اوقات کرتے تھے۔ ان کے چار بچے تھے۔ تین لڑکیاں اور ایک لڑکا۔

دو لڑکیوں کی شادیاں ہوگئی تھیں۔ ایک ڈیڑھ سال کی لڑکی گود میں تھی اور ایک لڑکا دس برس کا تھا۔ دلدار شاہ اس لڑکے کو بہت چاہتے تھے۔ بیگم نے بہت چاہا کہ لڑکا مکتب میں جائے مگر دلدار شاہ کو بچہ اس قدر لاڈلا تھا کہ انہوں نے ایک دن اس کو مکتب نہ بھیجا۔ لڑکا سارا دن گلیوں میں آوارہ پھرتا تھا۔ زبان پر گالیاں اس قدر چڑھ گئی تھیں کہ بات بات میں مغلظات بکتا تھا اور باوا جان اس کی بھولی بھولی باتوں سے خوش ہوتے تھے۔

میرزا دلدار شاہ بہادر شاہ بادشاہ کے قریبی رشتہ دار تھے۔ مرتے وقت ان کی عمر 65 برس کی ہوگی کیوں کہ جب یہ لڑکا ان کے ہاں پیدا ہوا تو ان کی عمر 55 بر س کی تھی۔ بڑھاپے کی اولاد سب کو پیاری ہوتی ہے، خاص کر بیٹا۔ میرزا دلدار جتنی محبت کرتے، تھوڑی تھی۔

ایک دن ان کے ایک دوست نے کہا، ’’صاحب عالم! بچّے کے لکھنے پڑھنے کی یہی عمر ہے۔ اب نہ پڑھے گا تو کب پڑھے گا۔ لاڈ پیار بھی ایک حد تک اچھا ہوتا ہے۔ آپ اس کے حق میں کانٹے بوتے ہیں۔ خدا آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔ ایک دن سب کو مرنا ہے۔ خدا نخواستہ آپ کی آنکھیں بند ہوگئیں تو اس معصوم کا کہیں ٹھکانا نہیں رہے گا۔ لکھ پڑھ لے گا تو دو روٹیاں کما کھائے گا۔ اس زمانہ میں شریفوں کی گذران بڑی دشوار ہوگئی ہے۔ کچھ آئندہ کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کو غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑے اور بزرگوں کی ناک کٹے۔‘‘

میرزا دلدار شاہ اس ہم دردی سے بگڑ گئے اور بولے، ’’آپ میرے مرنے کی بد شگونی کرتے ہیں۔ ابھی میری کون سی ایسی عمر ہوگئی ہے۔ لوگ تو سو برس تک زندہ رہتے ہیں۔ رہا بچے کا پڑھانا، سو میرے نزدیک تو اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ بڑے بڑے بی اے، ایم اے پاس مارے مارے پھرتے ہیں اور دو کوڑی کو کوئی نہیں پوچھتا۔ میرا بچہ پہلے ہی دھان پان ہے۔ آئے دن کا مرضین ہے۔

میرا دل گوارا نہیں کرتا کہ ظالم استادوں کے حوالے کر کے اس کی نازک ہڈیوں کو قمچیوں کا نشانہ بناؤں۔ جب تک میرے دَم میں دَم میں دَم ہے، عیش کراؤں گا۔ میں نہ رہوں گا تو خدا رازق ہے۔ وہ چیونٹی تک کو کھانا دیتا ہے۔ پتّھر کے کیڑے کو رزق پہنچاتا ہے۔ آدمی کے بچّہ کو کہیں بھوکا مارے گا؟ میاں ہم نے زمانہ کا بڑا گرم و سرد رنگ دیکھا ہے۔ ہمارے ماں باپ نے بھی ہم کو نہ پڑھایا تو کیا ہم بھوکے مرتے ہیں۔‘‘

نصیحت کرنے والے بچارے یہ جواب سن کر چپ ہوگئے اور دل ہی دل میں پچھتائے کہ میں نے ناحق ان سے درد مندی کی بات کہی، لیکن انہیں خیال آیا کہ حق بات کہنے سے چپکا رہنا گناہ ہے۔ ‘الساکت عن الحق شیطان اخرس’ یعنی سچّی بات کہنے سے خاموش رہنے والا گونگا شیطان ہے۔

اس لیے انہوں نے پھر کہا کہ ’’جناب! آپ ناراض نہ ہوں، میں خدانخواستہ آپ کا مرنا نہیں چاہتا۔ میں نے تو ایک دور اندیشی کی بات کہی تھی۔ آپ کو ناگوار گزری تو معاف فرمائیے، مگر یہ تو خیال فرما لیجیے کہ آپ کے بچپن میں اور حالت تھی اور آج کل اور زمانہ ہے۔ اس وقت قلعہ آباد تھا۔ جہاں پناہ ظلِّ سبحانی بہادر شاہ حضرت کا سایہ سَر پر تھا۔ ہر بات سے بے فکری تھی، لیکن آج تو کچھ بھی نہیں۔ نہ بادشاہی ہے نہ امیری ہے۔ ہر مسلمان کے گھر میں گدائی اور فقیری ہے۔ اب تو جو جو ہنر مندی سیکھے گا اور اپنی روٹی اپنے بازو سے کمائے گا، وہی لالوں کا لال بنے گا، ورنہ ذلّت و خواری کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔‘‘

دلدار شاہ نے کہا، ’’ہاں یہ سچ ہے۔ میں اس کو سمجھتا ہوں، مگر آخر ہماری بھی تو اتنی عمر اسی بربادی کے زمانے میں بسر ہوگئی۔ سرکار نے پانچ روپیہ کی جو پنشن مقرر کی ہے۔ تم جانتے ہو کہ اس میں ہمارے کَے وقت نکلتے ہوں گے۔ آٹھ آنے روز تو بچّے کا خرچ ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی روپیہ ڈیڑھ روپیہ کی روز کناری بنتے ہیں اور مزے سے گزر اوقات کرتے ہیں۔‘‘

یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک دوسرے صاحب تشریف لائے اور انہوں نے کہا، ’’آسٹریا کے بادشاہ کا ولی عہد مارا گیا۔ جب بادشاہ کو اس کی خبر پہنچی تو وہ بے قرار ہو گیا اور ہائے کا نعرہ مار کر کہا، ظالموں نے سب کچھ لوٹ لیا، میرے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ میرزا دلدار شاہ یہ سن کر ہنسنے لگے اور بولے، ’’بھئی یہ اچھی بہادری ہے۔ بیٹے کے ناگہانی مرنے سے ایسا گھبرا گئے۔ میاں! جب بہادر شاہ حضرت کے صاحب زادے میرزا ابو بکر وغیرہ گولی سے مارے گئے اور ان کے سر کاٹ کر سامنے لائے تو بادشاہ نے خوان میں کٹا ہوا سر دیکھ کر نہایت بے پروائی سے فرمایا، الحمدُ للہ! سرخ رو ہو کر سامنے آیا۔ مرد لوگ اسی دن کے لیے بچّے پالتے ہیں۔‘‘

جو صاحب خبر لائے تھے، وہ بولے، ’’کیوں جناب! غدر میں آپ کی عمر کیا ہوگی؟‘‘ میرزا دلدار شاہ نے کہا، ’’کوئی چودہ پندرہ برس کی۔ مجھے سب واقعات اچھی طرح یاد ہیں۔ باوا جان ہم کو لے کر غازی آباد جا رہے تھے کہ ہینڈن ندی پر ہم کو فوج نے پکڑ لیا۔ والدہ اور میری چھوٹی بہنیں چیخیں مار کر رونے لگیں۔ والد نے ان کو منع کیا اور آنکھ بچا کر ایک سپاہی کی تلوار اٹھا لی۔ تلوار ہاتھ میں لینی تھی کہ سپاہی چاروں طرف سے ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے دو چار کو زخمی کیا مگر سنگینوں اور تلواروں کے اتنے وار ان پر ہوئے کہ بچارے قیمہ قیمہ ہو کر گر پڑے اور شہید ہو گئے۔

ان کی شہادت کے بعد سپاہیوں نے میری بہن اور ماں کے کانوں کو نوچ لیا اور جو کچھ ان کے پاس تھا، چھین کر چلتے ہوئے۔ مجھ کو انہوں نے قید کر کے ساتھ لے لیا۔ جس وقت میں والدہ سے جدا ہوا ہوں، ان کی آہ و زاری سے آسمان ہلا جاتا تھا۔ وہ کلیجہ کو تھامے ہوئے چیختی تھیں اور کہتی تھیں، ارے میرے لال کو چھوڑ دو، تم نے میرے سرتاج کو خاک میں سلا دیا، اس یتیم پر تو رحم کرو۔ میں کس کے سہارے رنڈاپا کاٹوں گی۔ یا اللہ میرا کلیجہ پھٹا جاتا ہے، میرا دلدار کہاں جاتا ہے۔ کوئی اکبر و شاہجہاں کو قبر سے بلائے۔ ان کے گھرانے کی دکھیا کی بپتا سنائے۔ دیکھو میرے دل کے ٹکڑے کو مٹھی میں مسلے دیتے ہیں۔ ارے کوئی آؤ، میری گودیوں کا پالا مجھ کو دلواؤ۔

چھوٹی بہن آکا بھائی، آکا بھائی کہتی ہوئی میری طرف دوڑی، مگر سپاہی گھوڑوں پر سوار ہو کر چل دیے اور مجھ کو باگ ڈور سے باندھ لیا۔ گھوڑے دوڑتے تھے تو میں بھی دوڑتا تھا، ٹھوکریں کھاتا تھا، پاؤں لہولہان ہو گئے تھے۔ دل دھڑکتا تھا۔ دَم اکھڑا جاتا تھا۔‘‘

پوچھا، ’’میرزا یہ بات رہ گئی کہ پھر تمہاری والدہ اور بہن کا کیا حال ہوا؟‘‘ میرزا نے کہا، ’’آج تک ان کا پتہ نہیں۔ خبر نہیں ان پر کیا گزری اور وہ کہاں گئیں۔ مجھ کو سپاہی اپنے ہمراہ دہلی لائے اور یہاں سے اندور لے گئے۔ مجھ سے وہ گھوڑے ملواتے تھے اور گھوڑوں کی لید صاف کراتے تھے۔ چند روز کے بعد مجھ کو چھوڑ دیا گیا اور میں نے اندور میں ایک ٹھاکر کے ہاں دربانی کی نوکری کر لی۔ کئی برس اس میں گزارے۔ پھر دہلی میں آیا اور سرکار میں درخواست دی۔ اس کی مہربانی سے میری بھی اوروں کی طرح پانچ روپے ماہوار پنشن مقرر ہو گئی۔ اس کے بعد میں نے شادی کی۔ یہ بچّے پیدا ہوئے۔‘‘

اس واقعہ کے چند روز بعد میرزا دلدار شاہ بیمار ہوئے اور دس دن بیمار رہ کر آخرت کو سدھارے۔ ان کے مرنے کا غم سب سے زیادہ ان کی بیوی اور لڑکے کو تھا۔ لڑکا دس برس کا تھا اور اچھی طرح سمجھتا تھا کہ ابا جان مر گئے ہیں، مگر وہ بار بار امّاں سے کہتا تھا کہ ابا جان کو بلا دو۔ الغرض اس رونے دھونے میں یہ سب لوگ سو گئے۔

سحری کو بیگم صاحبہ بیدار ہوئیں تو دیکھا کہ گھر میں جھاڑو مَلی ہوئی ہے۔ کپڑا التا، برتن بھانڈا سب چور لے گئے۔ بیچاری بیوہ نے سر پیٹ لیا۔ ہے، ہے، اب میں کیا کروں گی۔ میرے پاس تو ایک تنکا بھی نہ رہا۔ گھر کے مالک کے اٹھتے ہی چوری بھی ہوئی۔ آس پاس کے محلّہ والے ان کے رونے کی آواز سن کر جمع ہوگئے اور سب نے بہت افسوس کیا۔ پڑوس میں ایک گوٹے والے رہتے تھے۔ انہوں نے سحری کے لیے دودھ اور نان پاؤ بھیجا اور بیچاری نے ٹھنڈا سانس بھر اس کو لے لیا۔

یہ پہلا دن تھا کہ بیوہ شہزادی نے خیرات کی سحری کھائی جس کا اس کو سب سے زیادہ صدمہ تھا۔ دن ہوا۔ چاروں طرف عید کے سامان نظر آتے تھے۔ چاند رات کی چہل پہل ہر گھر میں تھی، مگر نہ تھی اس گھر میں جہاں دودھ بیتی بچّی کو گود میں لیے بیوہ شہزادی یتیم شہزادہ کو سمجھا رہی تھی کیوں کہ وہ نئی جوتی اور نئے کپڑے مانگتا تھا۔

’’بیٹا تمہارے ابّا جان پردیس گئے ہیں۔ وہ آجائیں تو کپڑے منگا دیں گے۔ دیکھو تمہارے دولھا بھائی بھی بنارس گئے ہوئے ہیں۔ وہ ہوتے تو ان سے ہی منگا دیتے۔ اب کس کو بازار بھیجوں۔‘‘ لڑکے نے کہا، ’’میں خود لے آؤں گا۔ مجھ کو دام دو۔‘‘ دام کا نام سن کر دکھیاری بیوہ کے آنسو آگئے۔ اس نے کہا، ’’تمہیں خبر نہیں، رات کو گھر میں چوری ہوگئی۔ ہمارے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ہے۔‘‘

ضدی شہزادہ نے مچل کر کہا، ’’نہیں میں تو ابھی لوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر دو چار گالیاں ماں کو دے دیں۔ مصیبت زدہ نے ٹھنڈا سانس بھر کر آسماں کو دیکھا اور بولی، ’’اچھا ٹھہرو میں منگاتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر پڑوس کے گھر سے لگی ہوئی کھڑ کی میں جا کر کھڑی ہوئی اور گوٹہ والے کی بیوی سے کہا، ’’بوا! عدّت کے دن ہیں، میں اندر تو نہیں آ سکتی۔ ذرا میری بات سن جاؤ۔‘‘ وہ بیچاری فوراً اس کے پاس آئی تو اسے سارا ماجرا سنایا اور کہا، ’’ خدا واسطہ کا کام ہے۔ اپنے بچّے کی اترن، کوئی جوتی یا کپڑوں کا جوڑا ہو تو ایک دن کے لیے مانگے دے دو۔ کل شام کو واپس دے دوں گی۔‘‘

شہزادی اترن کہتے وقت بے اختیار ہچکی لے کر رونے لگی۔ پڑوسن کو بڑا ترس آیا۔ اس نے کہا، ’’بوا رونے اور جی بھاری کرنے کی کچھ بات نہیں۔ ننھے کی کئی جوتیاں اور کئی جوڑے فالتو رکھے ہیں۔ ایک تم لے لو۔ اس میں اترن کا خیال نہ کرو۔ اس نے تو ایک دن یونہی ذرا پاؤں میں ڈالی تھی۔ میں نے سنگوا کر رکھ دی۔‘‘ یہ کہہ کر پڑوسن نے جوتی اور کپڑے شہزادی کو دیے۔ شہزادی یہ چیزیں لے کر بچہ کے پاس آئی اور اس کو یہ سب دکھائیں۔ بچہ خوش ہو گیا۔

دوسرے دن عید گاہ جانے کے لیے شہزادی نے اپنے بچے کو بھی گوٹا والے پڑوسی کے ساتھ کر دیا۔ عید گاہ پہنچ کر یتیم شہزادے نے گوٹا والے کے لڑکے سے کہا، ’’ابے تیری ٹوپی سے ہماری ٹوپی اچھی ہے۔‘‘ گوٹا والے لڑکے نے جواب دیا، ’’چل بے اترن کھترن پر اتراتا ہے! لے یہ بھی میری ٹوپی ہے۔ اماں نے تجھ کو خیر خیرات دے دی ہے۔‘‘ یہ سننا تھا کہ شہزادہ نے ایک زور کا تھپڑ گوٹے والے کے بچّے کے رسید کیا اور کہا ہم کو خیرات خورہ کہتا ہے۔ گوٹے والے نے جو اپنے بچّے کو پٹتا دیکھا تو اس کو بھی غصہ آگیا اور اس نے دو تین تماچے شہزادے کے مارے۔ یہ لڑکا روتا ہوا بھاگا۔ گوٹے والے نے خیال کیا کہ اس کی ماں کیا کہے گی کہ ساتھ لے گئے تھے۔ کہاں چھوڑ آئے۔ اس لیے وہ اس کو پکڑنے کو دوڑا مگر لڑکا نظروں سے غائب ہو گیا۔ ناچار گوٹے والا مجبور ہو کر اپنے گھر چلا آیا۔

اب یتیم شہزادہ کی یہ کیفیت ہوئی کہ وہ عام خلقت کے ساتھ عید گاہ سے گھر کی طرف آرہا تھا کہ راستہ میں ایک گاڑی کی جھپٹ میں آکر گر پڑا اور زخمی ہوگیا۔ پولیس شفا خانہ لے گئی۔ یہاں گھر میں اس کی ماں کا عجب حال تھا۔ غش پہ غش آتے تھے۔ دو وقت سے بھوکے تھی۔ اس پر عید اور یہ مصیبت کہ لڑکا گم ہو گیا اور عالم یہ کہ کوئی پرسان حال نہیں، جو لڑکے کو تلاش کرنے جائے۔

آخر بیچارا وہی گوٹے والا پھرگیا اور پولیس میں اطلاع لکھوائی۔ اس وقت معلوم ہوا کہ وہ شفاخانہ میں ہے۔ شفا خانہ جاکر خبر لایا اور شہزادی کو ساری کیفیت سنائی۔ اس وقت عجیب عالم تھا۔

عید کی شام تھی۔ گھر گھر خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔ مبارک بادوں کے چرچے تھے۔ تحفے تحائف اور عیدیاں تقسیم ہو رہی تھیں۔ ہر مسلمان نے اپنی حیثیت سے زیادہ گھر کو آراستہ کیا تھا اور اپنے بال بچوں کو خوش و خرّم لیے بیٹھا تھا، مگر بیچاری بیوہ شہزادی دو وقت کے فاقہ سے رنجور، بچّے کے غم میں اشک بار، اندھیرے اجاڑ گھر میں بیٹھی آسمان کو دیکھتی تھی اور کہتی تھی، ’’خدایا میری عید کہاں ہے؟‘‘ اور بے اختیار ہچکیاں لے کر روتی تھی۔ ادھر شفا خانہ میں یتیم شہزادہ ماں کی جدائی میں پھڑکتا تھا۔

یہ ہے انقلابِ ایّام کی سچّی تصویر۔ اس میں تقدیر کا نشان۔ اس قصّہ سے معلوم ہوگا کہ اولاد کی تعلیم سے غفلت کرنا اور اس کو تربیت نہ دینا کیسا خطرناک ہے۔ یہ سچّی کیفیت عبرت ہے ان لوگوں کے لیے جو عید کی خوشی میں مست و بے خبر ہو جاتے ہیں اور آس پاس کے آفت رسیدہ غریبوں کی حالت نہیں دیکھتے۔

(غدر اور مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی جلا وطنی کے بعد پیدا ہونے والے حالات اور واقعات کی ایک جھلک، جو اردو کے صاحبِ طرز ادیب خواجہ حسن نظامی کے زورِ قلم کا نتیجہ ہیں)

Comments

یہ بھی پڑھیں