The news is by your side.

Advertisement

گلاب کی وہ ‘خامیاں’‌ جو آپ نے کبھی نہیں‌ سنی ہوں گی

ان سب شاعروں کو سامنے سے ہٹاؤ جو گلاب کے پھول پر مرتے ہیں۔ سیکڑوں برس سے ایک ہی چہرے کے طلب گار ہیں۔ یہ سب لکیر کے فقیر ہیں، مقلد ہیں، سنی سنائی تقلیدی باتوں پر جان دیتے ہیں۔ میں کچھ اور دیکھتا ہوں۔

سب نے گلاب کے پھول کو تختۂ مشق بنایا ہے۔ کوئی اس کی بھینی بھینی بُو پر فدا ہے۔ کوئی اس کی نازک نازک پتیوں پر نثار ہے۔ کسی کو اس کے رنگ سے رخسارِ محبوب کی یاد پیدا ہوتی ہے۔ کسی کا دل اس کے کھلنے اور مر جانے کے انقلاب میں اسیر ہے۔ بعض ہیں جو گلاب کے خار سے خار کھائے بیٹھے ہیں۔ خیر یہ جتنی باتیں ہیں، ان میں تو شکایت کا کوئی موقع نہیں ہے۔

کہنا یہ ہے انہوں نے خدا کی بے شمار مخلوقات کی حق تلفی کی۔ ایک ہی دروازے پر ڈیرے ڈال دیے۔ ایک ہی آئینہ کی دید میں مدہوش ہو کر رہ گئے اور ان بے شمار جلوؤں کو نہ دیکھا جو ان کے لیے صفحۂ ہستی پر نمودار کیے گئے تھے۔ یہ انہوں نے بہت بڑا گناہ کیا۔ اس میں ان سے ایسی خطا سرزد ہوئی ہے جس کی سزا نہایت ہولناک ہونی چاہیے۔

گلاب کی الفت میں باغ لگائے، چمن بنائے، مالی محافظ بسائے، پانی کھنچوائے اور زمین کے تختوں کو سیراب کیا۔ پھولوں کی ٹہنیوں کے سامنے اپنے تخیل کے ذوق کو سجدے کرائے مگر اپنے تصور کو اتنی آزادی نہ دی کہ وہ اس کائنات کے ہر پھول تک جاتا۔ ان لوگوں کو یہ نصیب نہ ہوا کہ جنگل میں نکل جاتے۔ خود رو پھولوں کو دیکھتے جن کا مالی خدا ہے۔ جن کا چمن صحرا ہے، جن کی سیرابی قدرتی سیرابی سے ہے۔ ان میں ایک کیکر تھا۔

کیا چپ چاپ تھا۔ کیا مضبوط و توانا تھا۔ اس کی شاخیں دیکھی ہوتیں، اس کی پتّیوں پر غور کیا ہوتا۔ گلاب کی ٹہنی میں کیا رکھا ہے۔ ایک کم زور، لچکنے اور ٹوٹ جانے والی شاخ ہے جس کو آج کل کے شہ زور زمانہ میں بقول ڈراون رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ وقت ان کی زندگی کا ہے جو حوادثِ ایّام کا مقابلہ کر سکتے ہیں، جن کے اعضاء دوسروں کے کام آتے ہیں۔

کیکر کی چھال مفید، جس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں اور مختلف رنگ تیّار ہوتے ہیں۔ کیکر کی لکڑیاں جلنے میں انسان کی مدد کرتی ہیں۔ کیکر کی پتّیاں بکریاں کھاتی ہیں اور آدمی کو دودھ دیتی ہیں۔ کیکر کی پھلیاں بھی چارہ اور رنگ بنانے میں کام آتی ہیں۔

یہ میاں گلاب کس مرض کی دوا ہیں۔ پیٹ میں درد ہو تو گل قند کھلاؤ۔ ہیضہ ہو تو گلاب پلاؤ۔ مر جاؤ قبر پر چڑھاؤ اور بھی کوئی کام اس منحوس وجود سے نکلتا ہے۔ گلاب کے کانٹوں کو دیکھو کیسے دھوکہ باز ہیں۔ دکھائی نہیں دیتے۔ ہاتھ لگاتے ہی چبھ جاتے ہیں۔

کیکر کے کانٹے دور سے نظر آتے ہیں۔ کیا مجال کہ بے خبری میں کسی کو ستائیں۔
گلاب کے کانٹے سوکھ جائیں تو پھینک دینے کے قابل۔ کیکر کے کانٹے سوکھ کر گھروں اور کھیتوں کی حفاظت کریں۔ اس پر طرّہ یہ کہ کیکر کا کانٹا کیسا سیدھا سادہ اور نکیلا ہوتا ہے۔ رنگ دیکھو تو وہ بھی انوکھا نرالا۔ شاعروں کے گلاب کو یہ بات کہاں میسر؟

گلاب کے درخت میں پتّے بالکل بدشکل اور بیکار۔ کیکر کی پتّیوں کے کیا کہنے۔ کیسی چھوٹی چھوٹی اور ننّھی ننّھی پتیاں ہیں کہ بے اختیار پیار کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کیکر کا پھول گلاب کے پھول سے لاکھ درجہ اچھا ہے۔ گلاب کا پھول ایک دن کی تیز دھوپ میں کملا اور مرجھا جاتا ہے اور کیکر کا پھول ہفتوں سورج کا مقابلہ کرتا ہے اور آج کل تعریف اسی کی ہے جو دشمن کے مقابلہ میں زندہ سلامت رہے۔

گلاب کا پھول سرخ یا سرخی مائل اور ایسا کچّا کہ مالیوں کی استادی سے رنگ بدل دیتا ہے۔ مالی جس کو چاہیں سرخ رکھیں، جس کو چاہیں سفید بنا دیں۔

کیکر کا پھول اپنے رنگ میں پختہ۔ سارے جہاں میں ایک ہی زرد رنگ۔ کیا مجال جو کوئی شخص اس کے رنگ کو بگاڑ سکے۔

شاعر کہتے ہیں گلاب کے پھول سے معشوق یاد آتا ہے۔ میں کہتا ہوں کیکر کے پھول سے عشق یاد آتا ہے جس سے انسان کی رنگت زرد ہو جاتی ہے۔

اب بتاؤ عشق اچھا یا معشوق۔ عشق نہ ہوتا تو نہ عاشق کو کوئی پوچھتا نہ معشوق کی کوئی وقعت ہوتی۔ یہ عشق ہی کی بدولت سب بستیاں آباد ہیں۔

ارے نادان تجھے شاعروں سے کیا کام۔ پہلے اپنے وجود کے تخیلات کو درست کر۔ ان میں فطرت شناسی کا ملکہ نمودار ہونے دے۔ آج گلاب کو چھوڑ کر کیکر کے آگے جھومتا ہے۔ کل اس کو بھی چھوڑیو۔ کسی اور پیکر کے جلوہ میں دھیان جمائیو۔ ساری دنیا میں کانٹے پھیلے ہوئے ہیں، کس کس جگہ جھاڑو دے گا۔ خود جوتی پہن لے اور راستہ چلنے لگ۔ ہاں تُو حق پر ہے۔ ہاں یہی صراطِ مستقیم ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو منزلِ جاناں تک جاتی ہے۔ من و تو کا حجاب اٹھا۔ اس کے بعد خود اپنی خودی کا پردہ کھول کر اندر گھس جا۔

پھر یہ آواز نہ آئے گی کہ ‘گلاب تمہارا اور کیکر ہمارا’

(اردو کے ممتاز ادیب، صحافی اور مضمون نگار خواجہ حسن نظامی کی ایک خوب صورت تحریر)

Comments

یہ بھی پڑھیں